ایران میں دھماکوں کی گونج، تہران اور بندر عباس میں حملوں کی اطلاعات
دارالحکومت تہران سمیت متعدد اہم شہروں میں دھماکے
تہران 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران کے دارالحکومت تہران سمیت متعدد اہم شہروں میں دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کی صبح تہران کے مختلف علاقوں، خصوصاً جنوب مغربی حصوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت، اہداف یا ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
اسی دوران ایران کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے والے بندر عباس سے بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس نے دفاعی اور تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی شہر اہواز میں بھی بمباری کی گئی، جہاں مبینہ طور پر پاسدارانِ انقلاب کے ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں شیراز میں بسیج فورس کے ایک مرکز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ قشم میں بھی سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر تہران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق ان حملوں میں درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسلحہ سازی کے مراکز، ڈرون تیار کرنے والی فیکٹریاں، فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ پیڈز اور ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران تقریباً 400 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو حالیہ کشیدگی کے دوران سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اندر مختلف شہروں میں بیک وقت حملوں کی اطلاعات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ خطہ ایک وسیع تر عسکری تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تاحال ایرانی حکام کی جانب سے ان حملوں پر کوئی تفصیلی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم صورتحال انتہائی حساس اور تیزی سے بدلتی ہوئی بتائی جا رہی ہے۔



