بین الاقوامی خبریں

قابض اسرائیل نے ننھے شہید ودیع علیان کا جسدِ خاکی گمنام قبرستان میں دفن کر دیا

“شہداء کی شناخت مٹانے کی پالیسی انسانیت کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے

غزہ 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہداء کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی ایک اور افسوسناک مثال سامنے آئی ہے، جہاں چودہ سالہ ننھے فلسطینی شہید ودیع شادی علیان کا جسدِ خاکی خفیہ طور پر گمنام قبرستان میں دفن کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں بتایا کہ شہید بچے کی تدفین 29 اکتوبر 2025 کو کی گئی، حالانکہ عدالت نے اس سے قبل صرف جسدِ خاکی کو تحویل میں رکھنے کی اجازت دی تھی۔ اس کے باوجود میت کو ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے نامعلوم قبرستان "مقابر الارقام” میں دفن کر دیا گیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب شہید کے اہل خانہ کی جانب سے عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کی گئی، جس میں میت کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت میں پیش کیے گئے سرکاری موقف نے نہ صرف قانونی سوالات کو جنم دیا بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی تشویش بڑھا دی ہے۔

واضح رہے کہ ودیع علیان 5 فروری 2024 کو مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے العیزریہ کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ زخمی حالت میں زمین پر گرنے کے باوجود بھی اس معصوم بچے پر گولیاں برسائی گئیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے مطابق اسرائیلی حکام اب بھی القدس گورنری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 30 فلسطینی شہداء کے اجساد کو اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں 10 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جبکہ سب سے پرانا جسدِ خاکی سنہ 2016 سے واپس نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق "مقابر الارقام” جیسے گمنام قبرستانوں کا استعمال ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد فلسطینی شہداء کی شناخت کو مٹانا اور ان کے خاندانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھنا ہے۔ قبروں پر ناموں کے بجائے محض نمبرز درج کیے جاتے ہیں، جو انسانی وقار کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تنازع کے بیچ انسانی حقوق اور بنیادی اخلاقی اقدار کس طرح پامال ہو رہی ہیں، اور عالمی برادری کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button