تباہی کے بیچ سسکتا بچپن: غزہ کے بچوں کی درد بھری داستان
ماں باپ کے بغیر زندگی,غزہ کے یتیم بچوں کی اذیت ناک حقیقت
غزہ 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) غزہ کی سرزمین آج صرف جنگ کا میدان نہیں بلکہ ٹوٹے خوابوں، بجھی آنکھوں اور سسکتی معصومیت کا قبرستان بن چکی ہے۔ مسلسل بمباری اور تباہی نے نہ صرف عمارتیں گرائیں بلکہ ہزاروں گھروں کے چراغ بھی گل کر دیے۔ اب اس ملبے کے درمیان ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جس کے سر سے والدین کی شفقت کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ چکا ہے۔
غزہ کی وزارتِ سماجی ترقی کی تازہ رپورٹ کے مطابق یکم اپریل 2026 تک یتیم بچوں کی تعداد بڑھ کر 64,616 ہو چکی ہے۔ ان میں سے 55 ہزار سے زائد بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے والد کو اس خونی جنگ میں کھو دیا۔ یہ اعداد صرف شمار نہیں بلکہ ہر عدد ایک ادھوری کہانی، ایک بکھرا ہوا خاندان اور ایک خاموش چیخ کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ بچے آج صرف یتیم نہیں بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور وہ کردار ہیں جنہیں وقت سے پہلے بڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ کہیں ایک دس سالہ بچہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بنا ہوا ہے، تو کہیں ایک ننھی بچی ماں کی جگہ گھر سنبھالنے پر مجبور ہے۔
صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ خوراک، صاف پانی اور ادویات تک رسائی خواب بنتی جا رہی ہے۔ امدادی سامان پر پابندیاں ان بچوں کے لیے زندگی کی آخری امید بھی چھین رہی ہیں۔ خیموں میں بسنے والے لاکھوں افراد، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، بارش، بھوک اور بیماری کے درمیان زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہزاروں بچے ایسے ہیں جو اپنے خاندان سے بچھڑ چکے ہیں، جبکہ تین ہزار سے زائد بچے ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی لمحے میں ماں اور باپ دونوں کو کھو دیا۔ یہ بچے اب اپنی ہی دنیا میں گم، خوف اور تنہائی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
غزہ کے مختلف علاقوں میں تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف غزہ گورنری میں ہی اکیس ہزار سے زائد بچے یتیمی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں زندگی کی رمق ملبے کے نیچے دبتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وہ ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے جو ان بچوں کی آخری پناہ گاہ تھے۔ یتیم خانوں، فلاحی مراکز اور بچوں کی دیکھ بھال کے اداروں پر ہونے والے حملوں نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اب یہ بچے نہ صرف والدین سے محروم ہیں بلکہ محفوظ چھت سے بھی۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری عالمی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ پوری نسل شدید نفسیاتی مسائل، ناخواندگی اور جبری مشقت کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا مستقبل جس میں خوابوں کی جگہ خوف اور امید کی جگہ مایوسی لے چکی ہو۔
غزہ کا یہ المیہ صرف آج کی خبر نہیں بلکہ آنے والے کل کا ایک دردناک باب ہے۔ یہ بچے انصاف نہیں تو کم از کم جینے کا حق ضرور مانگ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ان کی خاموش چیخوں کو سن پائے گی، یا یہ سسکیاں بھی تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جائیں گی؟



