صحت اور سائنس کی دنیا

مردوں کے لیے مانع حمل گولی تیار، اسپرم کی پیداوار عارضی طور پر روکنے میں کامیاب

یہ نئی گولی مردوں کو بھی مانع حمل کی ذمہ داری میں شامل کر سکتی ہے

طبی سائنس نے مانع حمل کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے مردوں کے لیے ایک نئی گولی تیار کی ہے جو اسپرم کی پیداوار کو عارضی طور پر روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب تک مانع حمل کے زیادہ تر طریقے خواتین تک محدود تھے، لیکن اس نئی تحقیق سے مردوں کے لیے بھی ایک محفوظ اور مؤثر آپشن سامنے آیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ گولی غیر ہارمونل ہے، جس کی وجہ سے جسم کے دیگر نظاموں پر اس کے منفی اثرات کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اس میں موجود خاص مرکب خصیوں میں ایک مخصوص انزائم کو نشانہ بناتا ہے، جو اسپرم کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب یہ انزائم غیر فعال ہو جاتا ہے تو اسپرم بننا عارضی طور پر رک جاتا ہے۔

یہ تحقیق Baylor College of Medicine کے سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی اور اسے ایک معروف سائنسی جریدے میں شائع کیا گیا۔ ابتدائی تجربات چوہوں پر کیے گئے، جن میں دوا کے استعمال کے دوران زرخیزی مکمل طور پر ختم ہو گئی، جبکہ دوا بند کرنے کے بعد یہ صلاحیت دوبارہ بحال ہو گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گولی کا سب سے بڑا فائدہ اس کا الٹنے والا اثر ہے، یعنی یہ مستقل نس بندی کے برعکس ایک عارضی حل فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خواتین کی مانع حمل گولیوں کے مقابلے میں کم مضر اثرات کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ یہ ہارمونز میں مداخلت نہیں کرتی۔

فی الحال مردوں کے لیے مانع حمل کے محدود اختیارات جیسے کنڈوم یا نس بندی دستیاب ہیں، جبکہ ہارمونل طریقے ماضی میں مضر اثرات کے باعث کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس نئی پیش رفت سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں مرد بھی مانع حمل کی ذمہ داری زیادہ مؤثر طریقے سے نبھا سکیں گے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس دوا کو عام استعمال کے لیے دستیاب ہونے سے پہلے انسانی آزمائشوں کے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو آنے والے برسوں میں یہ گولی مانع حمل کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button