
تلنگانہ میں 22 اپریل سے آر ٹی سی ہڑتال، عوامی ٹرانسپورٹ متاثر ہونے کا خدشہ
تلنگانہ وزیر ٹرانسپورٹ کی آر ٹی سی یونینز سے ہڑتال واپس لینے کی اپیل
حیدرآباد 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ میں آر ٹی سی ملازمین کی جانب سے 22 اپریل سے ہڑتال کے اعلان کے بعد ریاست میں عوامی ٹرانسپورٹ متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس صورتحال کے پیش نظر یونینز سے ہڑتال واپس لینے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، ہڑتال جاری رہے گی۔ اس اعلان کے بعد لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ بس خدمات کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
آر ٹی سی ملازمین کا کہنا ہے کہ کانگریس حکومت نے انتخابات کے دوران آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ انہیں سرکاری ملازمین کے برابر تنخواہیں اور مراعات دی جائیں۔
جے اے سی نے حکومت کے سامنے کل 32 مطالبات رکھے ہیں جن میں 30 فیصد فٹمنٹ، تنخواہوں میں ترمیم، سروس فوائد اور یونین انتخابات شامل ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ تمام مطالبات جائز ہیں اور فوری طور پر پورے کیے جائیں۔
دوسری جانب، وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا ہے کہ حکومت ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے پوری طرح تیار ہے اور بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے یونینز سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کا فیصلہ واپس لے کر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
وزیر نے بتایا کہ 2.1 فیصد مہنگائی الاؤنس نافذ کیا جا چکا ہے اور اس کے بقایاجات بھی زیر التوا نہیں ہیں، جبکہ تنخواہوں میں نظرثانی کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آر ٹی سی کے انضمام اور یونین معاملات کے لیے پہلے ہی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے، تاہم انتخابات کے باعث اس عمل میں تاخیر ہوئی۔
آرٹی سی ملازمین نے نجی الیکٹرک بسوں کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے ادارہ کمزور ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ آر ٹی سی کے تحفظ، ملازمین کی فلاح اور مسافروں کی سہولت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت ہڑتال سے نہ صرف عوام کو مشکلات پیش آئیں گی بلکہ ادارے کی مالی بحالی پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود یونینز اپنے موقف پر قائم ہیں، جس کے باعث آنے والے دنوں میں صورتحال مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے



