امریکہ کے پاس دو ہی راستے: مذاکرات یا کھلی جنگ،ایرانی نائب وزیر خارجہ
امریکہ کو فیصلہ کرنا ہوگا، مذاکرات یا کھلی جنگ، ایران ہر صورت کے لیے تیار ہے۔
تہران 04 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب اس کے پاس دو ہی راستے باقی رہ گئے ہیں، یا مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے یا پھر کھلی جنگ کا سامنا کیا جائے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تہران میں سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے اور اپنی قومی سلامتی و مفادات کے تحفظ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ضروری ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایران نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے 14 نکاتی جامع امن منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے 9 نکاتی فریم ورک کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا ہے، جس سے اسلام آباد کے کردار کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔
ایرانی تجاویز میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری جنگ بندی، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، امریکی افواج کی واپسی اور آبنائے ہرمز کے لیے نئی انتظامی ساخت کے قیام جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، ضبط شدہ اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایران نے امریکی جانب سے پیش کردہ دو ماہ کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 دن کی مدت میں زیادہ مؤثر طریقے سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے منصوبے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے اس کی کامیابی کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن داخلی سطح پر کچھ پیچیدگیاں درپیش ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جبکہ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ صورتحال مذاکرات کی طرف بڑھتی ہے یا کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے۔



