وجے کی تاریخی جیت کے بعد رجنی کانت کی اسٹالن سے ملاقات
تمل ناڈو کی سیاست میں وجے کی کامیابی نے برسوں پرانے سیاسی توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
نئی دہلی 06 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تمل ناڈو کی سیاست میں اچانک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے جہاں سپر اسٹار تھلاپتی وجے کی پارٹی نے اپنے پہلے ہی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرکے ریاست کی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔ دوسری جانب حکمراں جماعت ڈی ایم کے اور اس کے قائد ایم کے اسٹالن کو زبردست سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک تصویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں تمل سپر اسٹار رجنی کانت، ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن کے گھر پر ان سے ملاقات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات انتخابی شکست کے بعد حمایت اور ہمدردی کے اظہار کے لیے کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ڈی ایم کے نے 133 نشستیں حاصل کی تھیں اور ایم کے اسٹالن وزیر اعلیٰ بنے تھے، لیکن اس مرتبہ پارٹی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ڈی ایم کے صرف 59 نشستوں تک محدود ہو گئی جبکہ وجے کی پارٹی “Tamilaga Vetri Kazhagam” نے 108 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وجے کی مقبولیت نے نوجوان ووٹروں کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہی وجہ رہی کہ کئی مضبوط سیاسی قلعے بھی ڈھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایم کے اسٹالن اپنی روایتی کولاتھور نشست بھی نہیں بچا سکے، جس کے بعد وہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بننے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے۔
رجنی کانت کی سیاست میں دلچسپی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی وہ مختلف مواقع پر سیاسی سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے 1990 کی دہائی میں ڈی ایم کے اتحاد کی حمایت کی تھی اور بعد میں 2017 میں سیاست میں باقاعدہ آنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم خراب صحت کی وجہ سے 2021 میں انہوں نے سیاست میں عملی داخلے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
ادھر وجے کیمپ میں حکومت سازی کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وجے مختلف جماعتوں خصوصاً کانگریس اور علاقائی پارٹیوں سے رابطے میں ہیں تاکہ مخلوط حکومت تشکیل دی جا سکے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وجے 7 مئی کو وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے سکتے ہیں اور ان کے ساتھ نو وزرا بھی حلف اٹھائیں گے۔



