ٹرمپ نے ایران کے امن جواب کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دے دیا، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ
آبنائے ہرمز کشیدگی کے درمیان تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واشنگٹن 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی امن تجویز پر دیے گئے جواب کو ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے چند روز قبل مذاکرات بحال کرنے کے مقصد سے ایک امن تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم ایران نے اپنے جواب میں جنگ کے مکمل خاتمے، خصوصاً لبنان میں جاری جھڑپوں کے اختتام پر زور دیا۔ ایران نے جنگی نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، مزید حملوں کی ضمانت نہ دینے، اقتصادی پابندیاں ہٹانے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے x پلیٹ فارم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کی تجویز پسند نہیں آئی اور یہ ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ ہے۔ امریکی منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور بعد میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تعطل کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل چار ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ تھا، جہاں سے عالمی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
ماہرین کے مطابق ہر نئے سیاسی بیان، دھمکی یا سفارتی پیش رفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بدستور محدود ہے جبکہ بعض تیل بردار جہازوں نے ایرانی حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے نگرانی کے نظام بھی بند رکھے۔
ادھر امریکی عوام میں اس جنگ کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عام شہریوں پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔ کانگریس کے آئندہ انتخابات سے قبل یہ معاملہ صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے سیاسی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں کیونکہ ایران کے افزودہ یورینیم، جوہری تنصیبات، میزائل صلاحیت اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری بہتر راستہ ہے لیکن طاقت کے استعمال کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کبھی دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع جاری رکھا جائے گا۔
خطے میں کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت نے بھی ایرانی بغیر پائلٹ طیاروں کی سرگرمیوں سے متعلق واقعات کی تصدیق کی ہے، جس سے خلیجی ممالک میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
لبنان کے جنوبی علاقوں میں بھی حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، حالانکہ اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم ہونے کے باوجود لبنان میں کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔



