پاور بینک استعمال کرتے وقت یہ 5 غلطیاں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں، ماہرین نے اہم انتباہ جاری کردیا
پاور بینک کی ایک چھوٹی سی غلطی آگ یا دھماکے جیسے خطرناک حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں پاور بینک میں آگ لگنے اور دھماکوں کے بڑھتے واقعات نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ حیدرآباد سے آنے والی ایک انڈیگو فلائٹ میں ایک مسافر کے پاور بینک میں اچانک آگ لگ گئی جس کے باعث کیبن میں دھواں بھر گیا اور ہنگامی انخلاء کرنا پڑا۔ خوش قسمتی سے یہ واقعہ لینڈنگ کے دوران پیش آیا جس سے بڑا حادثہ ٹل گیا، تاہم چند مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔
آج کے دور میں پاور بینک سفر، دفتر اور روزمرہ زندگی کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ موبائل فون، ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ کو چارج رکھنے کے لیے لوگ ہر وقت پاور بینک اپنے ساتھ رکھتے ہیں، لیکن احتیاط نہ برتنے کی صورت میں یہی آلہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاور بینک میں استعمال ہونے والی لیتھیم آئن بیٹری زیادہ گرم ہونے، ناقص معیار یا غلط استعمال کے باعث پھٹ سکتی ہے۔ اس کیفیت کو "تھرمل رن وے” کہا جاتا ہے جس میں بیٹری اچانک شدید گرم ہوکر آگ پکڑ سکتی ہے یا دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔
اوور چارجنگ خطرناک عادت
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاور بینک کو ضرورت سے زیادہ دیر تک چارجنگ پر لگائے رکھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ہر پاور بینک کی ایک مخصوص چارجنگ حد ہوتی ہے۔ مسلسل اوور چارجنگ بیٹری کو گرم کرکے اس کی کارکردگی خراب کرتی ہے اور دھماکے کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ 100 فیصد چارج ہونے کے فوراً بعد پاور بینک کو چارجر سے الگ کردیں۔
سستے اور ناقص پاور بینک سے پرہیز
بازار میں کم قیمت اور غیر معیاری پاور بینک بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ناقص معیار کی بیٹریاں جلد خراب ہوسکتی ہیں اور ان میں حفاظتی نظام بھی کمزور ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اچانک آگ لگنے یا دھماکے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مستند اور حفاظتی معیار پر پورا اترنے والے برانڈز کا انتخاب کیا جائے۔
زیادہ گرمی بیٹری کی دشمن
براہ راست دھوپ یا گرم جگہوں پر پاور بینک رکھنا بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ گاڑی کے ڈیش بورڈ، بند کمروں یا تکیے کے نیچے پاور بینک رکھنے سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاور بینک کو ہمیشہ ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنا چاہیے تاکہ زیادہ گرمی سے بچا جا سکے۔
خراب یا پھولی ہوئی بیٹری فوراً تبدیل کریں
اگر پاور بینک گرنے کے بعد ٹوٹ جائے، اس میں دراڑ آجائے یا بیٹری پھولنے لگے تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کردینا چاہیے۔ ایسی بیٹری کے اندر شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے جو آگ لگنے یا دھماکے کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب پاور بینک کو نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
ہر چارجر استعمال کرنا نقصان دہ
بہت سے لوگ پاور بینک کو کسی بھی چارجر یا مقامی کیبل سے چارج کر لیتے ہیں، لیکن یہ عادت بیٹری کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ غلط چارجر اضافی دباؤ پیدا کرتا ہے جس سے بیٹری زیادہ گرم ہوسکتی ہے۔ پاور بینک کو ہمیشہ اصل چارجر اور معیاری کیبل سے چارج کرنا چاہیے۔
محفوظ استعمال کے لیے اہم احتیاطی تدابیر
ماہرین نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ اگر پاور بینک سے جلنے جیسی بو آئے یا غیر معمولی گرمی محسوس ہو تو فوراً اس کا استعمال بند کردیں۔ پاور بینک کو پوری رات چارجنگ پر نہ چھوڑیں اور خراب یا پھولی ہوئی بیٹری والا آلہ ہرگز استعمال نہ کریں۔ محفوظ رہنے کے لیے ہمیشہ معیاری اور حفاظتی تصدیق شدہ پاور بینک خریدنے کی تاکید کی گئی ہے۔



