قومی خبریں

ملک بھر میں ووٹر فہرستوں کی جانچ مہم، 16 ریاستوں اور 3 مرکزی علاقوں میں گھر گھر سروے ہوگا

ووٹر فہرستوں کو شفاف اور قابل اعتماد بنانے کے لیے ملک گیر جانچ مہم شروع کردی گئی ہے۔

نئی دہلی 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک میں آئندہ انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کو زیادہ درست اور شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک وسیع جانچ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کے تحت 16 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابی فہرستوں کی ازسرنو جانچ کی جائے گی تاکہ اہل شہریوں کے نام شامل کیے جا سکیں اور غیر ضروری اندراجات ختم ہوں۔

کمیشن کے مطابق اس پورے عمل میں بلاک سطحی افسران اہم کردار ادا کریں گے جو مختلف علاقوں میں گھر گھر جا کر ووٹروں کی معلومات کی تصدیق کریں گے۔ اس دوران نئے ووٹروں کے اندراج، پتے میں تبدیلی، انتقال کر جانے والے افراد کے نام حذف کرنے اور فرضی اندراجات کی نشاندہی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انتخابی عمل مزید شفاف اور مضبوط ہوگا۔

ناگالینڈ میں اس مہم کا آغاز اگست 2026 سے ہوگا جہاں ابتدائی مرحلے میں تربیت، تیاری اور ضروری دستاویزات کی طباعت مکمل کی جائے گی۔ اس کے بعد گھر گھر سروے کا مرحلہ شروع ہوگا جبکہ ابتدائی ووٹر فہرست ستمبر میں جاری کی جائے گی۔ عوام کو اپنے دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے لیے بھی ایک ماہ سے زائد کا وقت دیا جائے گا، جس کے بعد نومبر میں حتمی ووٹر فہرست جاری ہوگی۔

تریپورہ میں یہ مہم ستمبر 2026 سے شروع کی جائے گی۔ وہاں بھی پہلے مرحلے میں تربیتی اور انتظامی سرگرمیاں مکمل کی جائیں گی، پھر ووٹروں کی تفصیلات اکٹھی کرنے کے لیے گھر گھر مہم چلائی جائے گی۔ ابتدائی انتخابی فہرست اکتوبر میں جاری ہوگی جبکہ حتمی فہرست دسمبر میں شائع کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ مختلف ریاستوں میں مقامی حالات اور انتظامی ضروریات کے مطابق الگ الگ شیڈول تیار کیے گئے ہیں۔ اڈیشہ، میزورم، سکم، منی پور، آندھرا پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ اور چندی گڑھ سمیت کئی علاقوں میں یہ عمل جولائی 2026 سے شروع ہوگا۔

دوسری جانب تلنگانہ، پنجاب، کرناٹک، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، میگھالیہ اور دہلی میں یہ مہم بعد کے مرحلے میں چلائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے تمام ریاستی انتخابی حکام کو ہدایت دی ہے کہ پورا عمل مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ ملک میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے لیے ایک زیادہ مستند اور قابل اعتماد ووٹر فہرست تیار ہوسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button