NEET-UG 2026 معاملہ: سپریم کورٹ نے این ٹی اے اور سی بی آئی سے مانگا جواب
سپریم کورٹ میں نیٹ-یو جی 2026 امتحان معاملے کی سماعت
نئی دہلی 25 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نیٹ-یو جی 2026 امتحان سے متعلق تنازع ایک بار پھر سپریم کورٹ پہنچ گیا، جہاں پیر کے روز اس معاملے پر اہم سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن اور یونائٹڈ ڈاکٹرس فرنٹ کی عرضیوں پر مرکزی حکومت، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور سی بی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 29 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔
عرضی گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ-یو جی 2026 کے دوبارہ امتحان کے پورے عمل کو عدالتی نگرانی میں کرایا جائے تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔ درخواست میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی اپیل کی گئی، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جائے۔ اس کمیٹی میں سائبر سیکورٹی اور فارنسک سائنس کے ماہرین کو شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
عدالت میں داخل درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب تک ایک نیا آزاد امتحانی ادارہ قائم نہیں ہو جاتا، تب تک نیٹ امتحان کا پورا نظام عدالتی نگرانی میں چلایا جائے۔ ساتھ ہی سنٹر وائز نتائج عام کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ کسی بھی مشتبہ پیٹرن یا بے ضابطگی کی نشاندہی شفاف انداز میں ہو سکے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے کردار پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ افسوسناک ہے کہ پہلے دی گئی ہدایات اور سفارشات کے باوجود حالات میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔ عدالت نے این ٹی اے کو حکم دیا کہ وہ مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی حلف نامہ داخل کرے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین کے رادھاکرشنن ان اقدامات کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کریں جو امتحانی نظام کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے اختیار کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نیٹ-یو جی 2026 امتحان 3 مئی کو ملک بھر میں میڈیکل گریجویٹ کورسز میں داخلوں کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ بعد میں پرچہ لیک ہونے اور سوالیہ پرچہ مبینہ طور پر رقم کے عوض تقسیم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق اب تک اس معاملے میں 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تحقیقات سی بی آئی کے سپرد ہیں۔
ملک بھر کے طلبہ اور والدین اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ تنازع لاکھوں امیدواروں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔



