بیروت حملے پر تنازع:”اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے”؛ ٹرمپ کی نیتن یاہو پر سخت برہمی
ٹرمپ نے نیتن یاہو سے لبنان میں بڑے حملے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔
واشنگٹن 02 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان لبنان میں مجوزہ فوجی کارروائی کے معاملے پر ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کی عسکری سرگرمیوں پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو سے بیروت میں منصوبہ بند فوجی کارروائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران ٹرمپ کا لہجہ انتہائی سخت تھا۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے نیتن یاہو سے کہا کہ اگر ان کی حمایت نہ ہوتی تو وہ جیل میں ہوتے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ خطے میں مزید کشیدگی کیوں پیدا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے لبنان میں متوقع فوجی کارروائی پر سخت اعتراض کیا اور اسرائیلی قیادت پر دباؤ ڈالا کہ وہ حملے سے گریز کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو کے اختتام پر نیتن یاہو نے کارروائی محدود کرنے یا واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی۔
بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے بیروت میں بڑے حملے سے باز رہنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد اسرائیلی افواج نے اپنی پیش قدمی روک دی۔ انہوں نے اس پر اسرائیلی وزیر اعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان راکٹ حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی حزب اللہ کے نمائندوں سے بات چیت ہوئی ہے اور انہیں اسرائیل پر حملے روکنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے بھی جوابی کارروائیاں محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر شبہ ظاہر کیا کہ یہ صورتحال کتنے عرصے تک برقرار رہ سکے گی۔
ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بھی اس تنازع کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کی نازک صورتحال کے باوجود لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر تناؤ برقرار ہے جبکہ عالمی برادری خطے کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔



