بین الاقوامی خبریں

کویت و بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات نشانے پر، ایران اور امریکہ پھر آمنے سامنے

امریکہ کا ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ، کویت اور بحرین پر میزائل حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن/تہران 03 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ بدھ کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دعوے کیے، جس کے بعد خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔ جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی رابطوں کے باوجود میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور بحری کشیدگی نے خطے میں بے چینی بڑھا دی ہے۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر ایرانی فوج کے ایک زمینی کنٹرول مرکز کو نشانہ بنایا۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق یہ کارروائی اپنے دفاع کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد ایران کی جانب سے خطے میں کیے جانے والے مبینہ حملوں کو روکنا تھا۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران نے کویت کی جانب دو اور بحرین کی جانب تین بیلسٹک میزائل داغے۔ ان میں سے بعض میزائل راستے میں ہی ناکام ہو گئے جبکہ باقی کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا۔ امریکہ نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی جانب بڑھنے والے تین ایرانی ڈرون مار گرائے گئے۔

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی مرکز پر امریکی کارروائی کے ردعمل میں کیا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا اور خطے میں تعینات تمام افواج مکمل چوکسی کی حالت میں ہیں۔ ادھر کویت اور بحرین میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ کویتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ عوام کو مشتبہ اشیاء اور ملبے سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی خطرے کے سائرن بجانے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔

بحری محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز میں نافذ بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کی جانب جانے والے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے نے بار بار انتباہ کے باوجود ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد اس کے انجن والے حصے کو میزائل حملے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔

امریکہ نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد چھ تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے جبکہ 122 سے زیادہ جہازوں کے راستے تبدیل کیے گئے ہیں۔

ایران نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جسے تہران نے امریکی کارروائیوں سے منسلک قرار دیا ہے۔

یہ تمام واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب کئی ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اطلاعات کے مطابق مجوزہ امن سمجھوتے کی بعض شرائط پر اختلافات کے باعث بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے اور یہ امریکہ کے مفاد میں ہوگا، تاہم بعد میں مجوزہ سمجھوتے کی بعض شرائط میں تبدیلی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان شرائط کا تعلق آبنائے ہرمز، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ مذاکرات سے بتایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واشنگٹن پر مؤقف تبدیل کرنے اور متضاد مطالبات پیش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی تمام بات چیت شرائط کے تابع ہے اور جوہری پروگرام سے متعلق خدشات دور ہونے تک پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جاری جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اگرچہ دونوں ممالک براہِ راست جنگ سے گریز کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن معمولی غلط اندازہ بھی خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ کسی بھی نئی محاذ آرائی کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button