اخبار میں خوراک کی پیکنگ ممنوع، خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی: ایف ایس ایس اے آئی
ایف ایس ایس اے آئی نے صحت کے سنگین خطرات سے خبردار کر دیا
نئی دہلی 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اگر آپ بھی سڑک کنارے ملنے والے وڑا پاو، سموسے، پکوڑے یا دیگر گرم کھانے اخبار میں لپٹے ہوئے خرید کر کھاتے ہیں تو اب محتاط ہو جائیں۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے ملک بھر میں کھانے کی اشیاء کو اخبار میں پیکنگ یا اسی میں پیش کرنے کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اس عمل پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ممبئی میں ایک معروف وڑا پاو فروخت کرنے والی دکان کے خلاف کارروائی کے بعد سامنے آیا، جہاں گاہکوں کو اخبار میں کھانا پیش اور پیک کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے واضح کیا کہ مستقبل میں اس طرح کے معاملات پر سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق یہ پابندی سڑک کنارے کھانا فروخت کرنے والوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، کیٹرنگ خدمات، موبائل خوراک فروشوں، فوڈ اسٹالز اور دیگر تمام خوراکی کاروباروں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی۔ کسی بھی خوردنی شے کو اخبار میں پیکنگ یا پیش کرنا قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایف ایس ایس اے آئی کا کہنا ہے کہ اخبارات کی چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں مختلف نقصان دہ کیمیائی مادے، رنگ، روغن اور بھاری دھاتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ جب گرم کھانے کی اشیاء اخبار میں رکھ کر دیا جاتا ہے تو سیاہی میں موجود اجزاء خوراک میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے آلودہ کھانے کا مسلسل استعمال جسم میں زہریلے مادوں کے جمع ہونے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے مختلف سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ادارے نے یاد دلایا کہ خوراک کی پیکیجنگ سے متعلق ضوابط 2018 کے تحت بھی اخبار کو خوراک ذخیرہ کرنے، پیکنگ کرنے کے لیے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے ایسے تمام کاروباری اداروں کو فوری طور پر متبادل اور محفوظ پیکیجنگ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اتھارٹی نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کہیں کھانے کی اشیاء اخبار میں لپیٹ کر دی جا رہی ہوں تو اس بارے میں محتاط رہیں اور صحت کے تحفظ کو ترجیح دیں۔ حکام کے مطابق ریاستی فوڈ سیفٹی محکموں کے ساتھ مل کر باقاعدہ نگرانی اور اچانک معائنے کیے جائیں گے تاکہ ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔



