والدین کی خدمت نہ کرنے والے بچوں سے تحفے میں دی گئی جائیداد واپس لی جا سکتی ہے-بمبئی ہائی کورٹ
عدالت نے واضح کیا کہ قانون امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، بزرگ والدین کی دیکھ بھال نہ ہونے پر گفٹ ڈیڈ منسوخ کی جا سکتی ہے
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بمبئی ہائی کورٹ نے بزرگ والدین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر والدین اپنی جائیداد اس شرط پر اولاد کو تحفے میں دیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال کرے گی، لیکن اولاد اس ذمہ داری کو پورا نہ کرے، تو والدین کو وہ جائیداد واپس لینے کا قانونی حق حاصل ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حق صرف مالی طور پر کمزور والدین تک محدود نہیں بلکہ خوش حال اور خود کفیل والدین بھی اس قانون سے یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
قائم مقام چیف جسٹس رویندر گھُگے اور جسٹس گوتم انکھڈ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ ممبئی کے علاقے لوئر پریل کے ایک رہائشی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنایا، جس نے اپنے والد کے حق میں ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 68 سالہ والد، جو پیشے کے اعتبار سے سنار ہیں، نے 2005 میں لوئر پریل میں ایک فلیٹ خریدا تھا جہاں وہ اپنی اہلیہ، بیٹے اور اس کے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ تقریباً 18 برس بعد انہوں نے مئی 2023 میں گفٹ ڈیڈ کے ذریعے یہ فلیٹ اپنے بیٹے کے نام منتقل کر دیا۔ گفٹ ڈیڈ میں واضح شرط درج تھی کہ بیٹا والدین کی بنیادی ضروریات پوری کرے گا اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرے گا۔
بعد ازاں والدین نے الزام عائد کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بیٹے کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے اور حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ 2025 میں انہیں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے مینٹیننس اینڈ ویلفیئر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سٹیزنز ایکٹ، 2007 کے تحت قائم ٹریبونل سے رجوع کیا۔
اپریل 2026 میں ٹریبونل نے فیصلہ سناتے ہوئے بیٹے اور اس کے خاندان کو 60 دن کے اندر فلیٹ خالی کرکے والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا، جس کے خلاف بیٹے نے بمبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔
سماعت کے دوران بیٹے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ والد مالی طور پر مستحکم ہیں، زیورات کا کاروبار کرتے ہیں اور دیگر غیر منقولہ جائیدادوں کے بھی مالک ہیں، اس لیے وہ اس قانون کے دائرۂ کار میں نہیں آتے۔
تاہم ہائی کورٹ نے یہ دلیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سینئر سٹیزنز ایکٹ 2007 کی دفعہ 23 کے تحت اگر جائیداد اس شرط پر منتقل کی گئی ہو کہ بزرگ والدین کی دیکھ بھال کی جائے گی اور یہ شرط پوری نہ ہو، تو متعلقہ ٹریبونل کو گفٹ ڈیڈ منسوخ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دفعہ 23 کا اطلاق والدین کی مالی حیثیت یا دولت پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ آیا ان کی مناسب دیکھ بھال کی گئی یا نہیں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اولاد نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو جائیداد کی منتقلی کالعدم قرار دی جا سکتی ہے، خواہ والدین کتنے ہی خوش حال کیوں نہ ہوں۔



