بین ریاستی خبریںسرورق

کرناٹک میں ملک کی پہلی سرکاری اے آئی یونیورسٹی قائم ہوگی، ڈی کے شیوکمار کا اعلان

گوگل آئی او کنیکٹ انڈیا 2026 میں اعلان، اے آئی یونیورسٹی کے ساتھ تحقیق و اختراع کے نئے مرکز کے قیام کا بھی فیصلہ

بنگلورو: (اردو دنیا نیوز) کرناٹک حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ریاست میں ملک کی پہلی سرکاری اے آئی یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس ادارے کا مقصد عالمی معیار کے ماہرین تیار کرنا، جدید تحقیق کو فروغ دینا اور تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان مؤثر اشتراک کو مضبوط بنانا ہے تاکہ کرناٹک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

بنگلورو انٹرنیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں منعقدہ Google I/O Connect India 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ اے آئی یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہوگی بلکہ مصنوعی ذہانت کی تعلیم، تحقیق اور اختراعات کا جامع مرکز بنے گی۔ یہاں طلبہ، محققین، اسٹارٹ اپس اور صنعتی ادارے مل کر نئی ٹیکنالوجیز پر کام کریں گے اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق مہارتیں حاصل کریں گے۔

انہوں نے اس موقع پر ریاست میں ایک جدید اے آئی سینٹر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جو تحقیق و ترقی (R&D) اور انکیوبیشن ہب کے طور پر کام کرے گا۔ اس مرکز کے ذریعے نئی کمپنیوں، تعلیمی اداروں، صنعت اور اختراع کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا تاکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی مصنوعات اور خدمات کی تیاری کو تیز کیا جا سکے۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی سب سے بڑی تکنیکی تبدیلی بن کر ابھر رہی ہے اور اس کے اثرات بھاپ کے انجن، بجلی، انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجی جیسی تاریخی ایجادات کے مساوی ہوں گے۔ ان کے مطابق بنگلورو پہلے ہی دنیا کے اہم ٹیکنالوجی اور اختراع مراکز میں شمار ہوتا ہے، جبکہ ریاستی حکومت اسے ذمہ دارانہ اور پائیدار مصنوعی ذہانت کا عالمی مرکز بنانے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور پالیسی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کرناٹک ملک کی مجموعی سافٹ ویئر برآمدات میں تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ صرف بنگلورو میں 17 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپس اور ہزاروں عالمی صلاحیتی مراکز (Global Capability Centers) سرگرم ہیں، جہاں دنیا بھر کے لیے جدید سافٹ ویئر، ڈیجیٹل خدمات اور ٹیکنالوجی حل تیار کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ہدف مصنوعی ذہانت کو عوامی زندگی کا حصہ بنانا ہے تاکہ سرکاری خدمات زیادہ مؤثر، شفاف اور تیز رفتار ہو سکیں۔ ان کے مطابق اے آئی کی مدد سے اساتذہ کو جدید تدریسی سہولیات، ڈاکٹروں کو بروقت تشخیص، کسانوں کو سائنسی زرعی رہنمائی، شہریوں کو بہتر سرکاری خدمات اور چھوٹے کاروباری اداروں کو نئی مسابقتی صلاحیت حاصل ہوگی۔

ڈی کے شیوکمار نے مزید کہا کہ حکومت ڈیٹا سینٹرز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور تحقیقی سہولیات کو بھی وسعت دے گی تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق، اختراع اور صنعتی ترقی کو مزید رفتار مل سکے۔ انہوں نے گوگل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے بنگلورو کو اپنے عالمی انجینئرنگ اور ریسرچ نیٹ ورک میں اہم مقام دیا ہے۔ انہوں نے گوگل سے تعلیم، صحت، زراعت، بہتر حکمرانی، اسٹارٹ اپس کی سرپرستی اور طلبہ کی مہارت سازی کے شعبوں میں ریاست کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کی اپیل بھی کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button