
بنگلہ دیش میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈ، 54 افراد ہلاک، 10 لاکھ سے زائد لوگ محصور
کاکس بازار کے روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں مٹی کا تودہ گرنے سے بچوں سمیت کئی جانیں ضائع، متاثرین نے امدادی کارروائیوں کی سست رفتاری پر تشویش ظاہر کی
ڈھاکہ/کاکس بازار، 14 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارش کے بعد آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 54 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف علاقوں میں سیلابی پانی میں محصور ہیں۔ متعدد سڑکیں، مکانات اور رابطہ پل زیر آب آنے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق کاکس بازار اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع ہے۔ یہاں واقع روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈ کے واقعات پیش آئے، جن میں بچوں سمیت متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مسلسل ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، تاہم دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کے باعث امدادی سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارت برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے بتایا کہ سیلاب نے جنوبی اور جنوب مشرقی اضلاع میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیہات اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح اتنی بلند ہو گئی ہے کہ بعض مقامات پر ٹین کی چھتوں والے مکانات بھی مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں، جس کے باعث لوگوں نے محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں کا رخ کر لیا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ امدادی سامان کی فراہمی توقع سے کہیں زیادہ سست ہے، جس کے باعث مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فوج، ریسکیو ادارے اور رضاکار متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
ماہرین موسمیات نے آئندہ چند دنوں تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔



