
ڈاکٹر اور نرس کی محبت کی شادی تنازع میں، پولیس سے تحفظ کی اپیل
محبت کی شادی کے بعد جوڑا تحفظ کے لیے پولیس کمشنر کے پاس پہنچا
کانپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے شہر کانپور میں ایک ڈاکٹر اور نرس کی پانچ سال پرانی محبت کی کہانی اب تھانے اور عدالت کے درمیان الجھ گئی ہے۔ بین برادری ہونے کی وجہ سے دونوں کو خاندان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب یہ جوڑا ایک ساتھ زندگی گزارنے کے لیے پولیس سے تحفظ کی درخواست کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں کی ملاقات کورونا وبا کے دوران شہر کے ایک بڑے اسپتال میں ہوئی، جہاں دونوں ایک ساتھ خدمات انجام دے رہے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھی، لیکن مختلف برادریوں سے تعلق ہونے کے باعث انہوں نے اپنے خاندانوں کو اس رشتے سے آگاہ نہیں کیا۔
14 مئی 2024 کو دونوں نے آریہ سماج کے ذریعے شادی کی اور اگلے روز اپنی شادی رجسٹر بھی کرا لی۔ تاہم اہل خانہ کی ناراضی کے باعث دونوں نے کچھ عرصہ الگ الگ اپنے گھروں میں رہنے کا فیصلہ کیا، اس امید کے ساتھ کہ مستقبل میں خاندان کو راضی کر لیں گے۔
اسی دوران لڑکی کے اہل خانہ کو شادی کی اطلاع مل گئی۔ الزام ہے کہ خاندان کے دباؤ کے تحت لڑکی کی جانب سے نوجوان اور اس کے والد کے خلاف مارپیٹ، رقم کا مطالبہ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا۔ پولیس تحقیقات کے دوران کئی دعووں کی حقیقت مختلف سامنے آئی، جس کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں اس عرصے میں مسلسل رابطے میں رہے اور آخرکار 12 جولائی کو خاتون اپنا گھر چھوڑ کر گووند نگر میں اپنے شوہر کے گھر پہنچ گئی، جہاں دونوں ایک ساتھ رہنے لگے۔ ڈاکٹر گووند نگر میں اپنا کلینک بھی چلاتا ہے۔
خاتون نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے اپنے خاندان کی جانب سے شدید دباؤ برداشت کیا، لیکن اب وہ اپنی مرضی سے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت دونوں پولیس کمشنر کے دفتر پہنچے اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تاکہ انہیں کسی غیر ضروری پولیس کارروائی یا نئے مقدمے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر پولیس کمشنر نے جوڑے کو یقین دہانی کرائی کہ اگر دونوں بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو پولیس کی جانب سے کسی قسم کی غیر ضروری کارروائی نہیں کی جائے گی اور قانون کے مطابق انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔



