
کرناٹک: دوسری بیٹی کی پیدائش پر باپ نے نومولود کو پانی کے ٹینک میں پھینک دیا، قتل کے الزام میں گرفتار
نومولود بیٹی کے مبینہ قتل نے صنفی امتیاز اور خاندانی تشدد پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
چکبالاپور، 24 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): کرناٹک کے ضلع چکبالاپور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک 28 سالہ شخص کو اپنی نومولود بیٹی کو مبینہ طور پر گھر کے زیرِ زمین پانی کے ٹینک (سمپ) میں پھینک کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا دوسری بار بھی بیٹی کی پیدائش اس جرم کی وجہ بنی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت ایم عمران کے نام سے ہوئی ہے۔ نومولود کی لاش جمعرات کو اس وقت برآمد ہوئی جب اہلِ خانہ نے پورے گھر میں تلاش کے بعد زیرِ زمین پانی کے ٹینک کا پانی نکالا، جہاں سے بچی کی لاش ملی۔
چکبالاپور ٹاؤن سرکل انسپکٹر رنجن کمار نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران شبہ بچی کے والد پر گیا، جس کے بعد شواہد اور بیانات کی بنیاد پر اسے حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزم عمران اور اس کی اہلیہ مسکان کے ہاں تقریباً دو ہفتے قبل دوسری اولاد کی پیدائش ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم بیٹے کی خواہش رکھتا تھا اور دوسری بار بیٹی کی پیدائش پر ناخوش تھا۔
پولیس کے مطابق جمعرات کی علی الصبح، جب گھر کے دیگر افراد سو رہے تھے، ملزم مبینہ طور پر نومولود کو بستر سے اٹھا کر گھر کے احاطے میں موجود زیرِ زمین پانی کے ٹینک میں پھینک آیا۔
بعد ازاں جب بچی کی والدہ کی آنکھ کھلی تو انہوں نے بچی کو غائب پایا اور شوہر سے پوچھ گچھ کی، تاہم اس نے لاعلمی ظاہر کی اور اہلِ خانہ کے ساتھ بچی کی تلاش میں شامل ہوگیا۔
جب کافی تلاش کے باوجود بچی نہ ملی تو اہلِ خانہ کو پانی کے ٹینک پر شبہ ہوا۔ پانی نکالنے پر نومولود کی لاش برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے جبکہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا خاندان میں پہلے سے کوئی تنازع یا صنفی امتیاز سے متعلق معاملات موجود تھے۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔



