
نریندر مودی کی 12 سالہ حکمرانی: 12 اہم وعدوں کی قلعی کھل گئی، عوامی سوالات پھر مرکزِ بحث
✍️محمد نعیم وجاہت
ہر اکاؤنٹ میں 15 لاکھ ، سالانہ 2 کروڑ ملازمتیں
کالا دھن کی واپسی فراموش
اچھے دن کا وعدہ برے دن میں تبدیل
نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا کا نعرہ کرپشن کا ماڈل بن گیا
100 شہروں کو اسمارٹ سٹی بنانے، بلٹ ٹرین کا پراجکٹ کا ادھورا
مرکزی حکومت کے اقتدار کے 12 سال مکمل ہونے پر ملک کی سیاسی فضاء میں ایک نیا ہنگامہ اور زبردست بحث چھیڑگئی ہے۔ ایک طرف جہاں اقتدار کے ایوانوں میں 12 سالہ دور حکومت کی کامیابیوں کا ڈھونڈورا پیٹا جارہا ہے اور اسے ترقیاتی دور قرار دیا جارہا ہے۔ وہی دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں، معاشی ماہرین اور سماجی کارکنوں نے مودی حکومت کے 12 بڑے انتخابی وعدوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔
نریندر مودی کے 12 سال اور 12 وعدوں کی حقیقت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔ ہم اپنی خصوصی رپورٹ میں ان تمام پرکشش نعروں کی حقیقت کا پردہ چاک کریں گے۔ ان ہی کی بنیاد پر 2014 میں عوامی تائید حاصل کی گئی تھی۔ 12 سال کا طویل عرصہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی اور اس کے نتائج کو جانچنے اور پرکھنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ حکومت کے معاشی و سماجی ماڈل نے عام انسان کو مایوس کیا، کیا انہیں مایوسی، مہنگائی اور بیروزگاری کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے 2014 کے عام انتخابات کیلئے گجرات کے چیف منسٹر نریندر مودی کو پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کا امیدوار بنانے کے بعد نریندر مودی نے بی جے پی انتخابی مہم کی باگ دوڑ سنبھالتے ہی عوام کی تائید و ہمدردی حاصل کرنے کیلئے کئی پرکشش وعدے کئے۔
ان میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں موجود ملک کا کالا دھن واپس لاکر ہندوستان کے ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے منتقل کئے جائیں گے، لیکن 12 سال گزرنے کے بعد بھی نہ تو بیرون ممالک سے کالا دھن واپس آیا اور نہ ہی کسی شہری کے کھاتے میں ایک روپیہ بھی جمع ہوا۔ 15 لاکھ روپئے دینے کے بجائے حکومت نے پٹرول، ڈیزل، پکوان گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا اور جی ایس ٹی کے ذریعہ عام شہریوں کی محنت کی کمائی بھی نچوڑلی ہے۔
دوسرا وعدہ یہ تھا کہ ملک کے بیروزگار نوجوانوں کو ہر سال 2 کروڑ نئے روزگار فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی تھی، لیکن 12 سالہ دور حکومت میں بیروزگاری کی شرح پچھلی چند دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ امتحانات اور ملازمتوں کے امتحانات میں پرچہ جات کا افشاء ہونا، بھرتیوں میں تاخیر اور خانگی شعبہ میں بدحالی کے باعث ملک کا تعلیم یافتہ نوجوان آج اپنے حق کیلئے سڑکوں پر لاٹھیاں کھانے کیلئے مجبور ہے۔
تیسرا وعدہ ملک کے 100 اہم شہروں کو جدید اور عالمی معیار کے ’’اسمارٹ سٹی‘‘ میں تبدیل کرنے کا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مانسون کی معمولی بارش میں بھی ملک کے بڑے بڑے شہر پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ ناقص ڈرینیج سسٹم، سڑکوں پر کچرے کے انبار، پینے کے صاف پانی کا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ اسمارٹ سٹی کا منصوبہ صرف کاغذی اشتہارات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
چوتھا وعدہ پی ایم آواس یوجنا کے تحت سال 2022 تک ملک کے ہر بے گھر اور غریب شہری کو پکا مکان دینے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی لاکھوں غریب خاندان چھت سے محروم ہیں، جبکہ دوسری جانب مختلف بہانوں سے غریبوں کی بستیوں اور مکانات پر بلڈوزرس چلا کر انہیں بے گھر کرنے کا ایک نیا اور خوفناک کلچر قائم کردیا گیا ہے۔
پانچواں وعدہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کا تھا، لیکن مہنگائی کی مار کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی مودی حکومت نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے تمام وعدوں کو ہوا میں اڑادیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے جہاں ہر چیز کو مہنگا کیا وہی ایل پی جی، دالیں، چاول، دودھ اور ترکاریاں اتنی مہنگی ہوگئی کہ غریب اور اوسط طبقے کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی محال ہوچکا ہے۔
شفافیت اور صفر کرپشن کا چھٹا نعرہ لگانے والی حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ’’جل جیون مشن‘‘ جیسے اربوں روپئے کے قومی منصوبوں میں ابتر تعمیرات، مقامی سطح پر کمیشن خوری اور رشوت ستانی کے واقعات نے یہ واضح کردیا کہ ’’نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا‘‘ کا نعرہ محض سیاسی لفاظی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
ساتواں وعدہ گنگا ندی کو آلودگی سے پاک اور صاف و شفاف بنانے کا تھا۔ اس کیلئے اربوں روپئے کے فنڈز جاری کئے گئے، تاہم ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق آج بھی گنگا ندی میں کیمیائی فضلہ اور زہریلا پانی گر رہا ہے اور ندی کی حالت 12 سال پہلے کے مقابلہ میں مزید ابتر ہوگئی ہے۔
آٹھواں وعدہ ملک کو 5 ٹریلین ڈالر کی عالمی معاشی طاقت بنانے کا تھا، لیکن عالمی مالیاتی اداروں (IMF) کی رپورٹس اور معاشی اشاریوں کے مطابق فی کس آمدنی، معاشی عدم مساوات اور افراط زر کی وجہ سے ملکی معیشت کو شدید بحران کا سامنا ہے اور ملک کی جی ڈی پی درجہ بندی میں متوقع استحکام نہیں آسکا۔
نواں وعدہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان 2022 تک بلٹ ٹرین دوڑانے کا سنہرا خواب دکھایا گیا تھا، لیکن 12 سال گزرنے کے باوجود بلٹ ٹرین کا پراجکٹ زمینی نزاعی مسائل اور تکنیکی تاخیر کی وجہ سے ادھورا پڑا ہے، جبکہ ملک کی عام مسافر ٹرینوں میں بدحالی، تاخیر اور حادثات کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دسواں وعدہ حکومت تشکیل پانے کے پہلے 100 دنوں کے اندر سوئس بینک اور دیگر غیر ملکی اکاؤنٹس میں موجود تمام کالا دھن واپس لانے کی پکی ضمانت دی گئی تھی، لیکن آج 12 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی کالا دھن واپس نہیں آیا، مگر کئی صنعتکار و ملک کے بینکوں کو لوٹ کر بیرونی ممالک بھاگ گئے۔
گیارہواں وعدہ ملک کی کرنسی کو ڈالر کے برابر لانے کا تھا۔ 2014 سے قبل امریکی ڈالر کے مقابلہ ہندوستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر پر کڑی تنقید کی گئی تھی اور روپئے کو ڈالر کے برابر مضبوط بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن موجودہ دور میں ہندوستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلہ میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ کر ایشائی سب سے کمزور ترین کرنسیوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔
بارہواں وعدہ اچھے دن کا تھا، لیکن 12 سال کی اس ناکام کارکردگی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اچھے دن کا وعدہ صرف ایک انتخابی سراب تھا اور عام شہری آج بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی اور معاشی بحران کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔
یہ 12 اہم نکات محض سیاسی الزامات نہیں ہیں بلکہ یہ ہر عام شہری کی روز مرہ زندگی کے بنیادی اور تلخ مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوامی سطح پر نوکریوں کی عدم دستیابی اور گرتی ہوئی معاشی صورتحال نے حکمراں جماعت بی جے پی کیلئے شدید چیلنجس کھڑے کردیئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ کیا حکومت ان 12 بنیادی اور تیکھے سوالات کا کوئی ٹھوس اور معقول جواب پیش کرپاتی ہے یا پھر ان 12 وعدوں پر اپوزیشن کا یہ شدید حملہ ملک کی سیاست میں کوئی نیا اور بڑا موڑ لائے گا۔
| نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات، تجزیات اور آراء مصنف کی ذاتی ہیں۔ UrduDuniyaNews کا ان خیالات یا آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں، اور ادارہ ان کی مکمل ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ |



