سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

وہ ڈرتا ہے کہیں ہم اس سے ڈرنا نہ چھوڑ دیں:✍️ روش کمار

"جمہوریت میں سوال پوچھنا اور اختلاف رائے کا اظہار ریاست اور اداروں کے احتساب کا بنیادی ذریعہ ہے۔" رویش کمار

ایک طرف اپوزیشن قائدین، بالخصوص راہول گاندھی کے احتجاج نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے، تو دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کی جنتر منتر پر بھوک ہڑتال نے مودی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تیسری جانب طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد نے ملک بھر میں برہمی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اسی دوران چیف جسٹس آف انڈیا بھی وکلا اور عوام کی تنقید کی زد میں آ گئے۔ عدالت میں انہوں نے کہا، "ہمارا وقت برباد مت کرو، ہم ویڈیو نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے۔”

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے یہ بات ان وکیلوں سے کہی جو پولیس کی مبینہ پرتشدد کارروائیوں کے خلاف سماعت کی درخواست لے کر عدالت پہنچے تھے۔ وکیلوں کا کہنا تھا کہ پولیس زیادتی کے بے شمار ویڈیوز موجود ہیں، مگر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ "ہمارا وقت مت برباد کرو۔” اگر میڈیا نے ان کے الفاظ درست انداز میں رپورٹ کیے ہیں تو عوام کی جانب سے بھی یہی درخواست کی جا رہی ہے کہ ہماری رپورٹس اور ویڈیوز دیکھئے، آپ کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا دہلی پولیس نے 20 جولائی کو پیلٹ گن کا استعمال کیا؟ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، کیونکہ پیلٹ گن سے بچوں سمیت کسی بھی شخص کی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس میں موجود دھاتی چھرے جسم میں پیوست ہو جاتے ہیں اور آنکھوں پر لگنے کی صورت میں جزوی یا مکمل نابینائی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگرچہ دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال سے انکار کیا ہے، لیکن محض انکار اس سنگین معاملے کو ختم نہیں کرتا۔

جنتر منتر کے احتجاج میں اسکول کے طلبہ بھی شریک تھے۔ اگر واقعی ان کے خلاف پیلٹ گن استعمال کی جاتی تو اس سے زیادہ خطرناک صورتحال کا تصور مشکل ہے۔ سال 2016 میں جموں و کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال کے بعد کئی افراد کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس وقت بھی اس معاملے پر شدید بحث ہوئی تھی۔ اگر دہلی میں بھی ایسا ہوا ہے تو اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔

صحافی وجیتا سنگھ کی رپورٹ کے مطابق، پارلیمنٹ چلو مارچ کے دوران عام شہریوں پر پیلٹ گن استعمال کیے جانے کا یہ پہلا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اسی دوران ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکی پر مبینہ طور پر شاک بیٹن استعمال کیا گیا۔ اس آلے سے ہلکا برقی جھٹکا دیا جا سکتا ہے۔ تاہم وجیتا سنگھ کی رپورٹ پر دہلی پولیس نے تردید جاری کی، جبکہ ریاپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی بھی دہلی پولیس کی درخواست پر کی گئی تھی۔ بعد ازاں دہلی پولیس نے شاک بیٹن اور کیلوں والی لاٹھی کے استعمال سے متعلق وائرل دعوؤں کو بھی فیکٹ چیک کے ذریعے مسترد کر دیا۔

21 جولائی کو سوشل میڈیا پر شیخ ارشاد منصوری کی تصاویر وائرل ہوئیں۔ دہلی پولیس نے اسی دن انہیں فیک نیوز قرار دیا۔ بعد میں سی جے پی کے ترجمان سوربھ نے شیخ ارشاد کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا، جس کے نیچے نئی دہلی کے ڈی سی پی کا بیان بھی جاری ہوا کہ ایسی خبریں بے بنیاد ہیں۔ تاہم اگلے دن دی ہندو کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شیخ ارشاد منصوری اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ اسپتال میں ہیں تو متعلقہ اسپتال یا ڈاکٹروں کی جانب سے وضاحت کیوں سامنے نہیں آئی، اور پولیس ہی مسلسل تردید کیوں کر رہی ہے؟

20 جولائی کو دہلی میں پیش آنے والے واقعات کے بعد 21 جولائی مکمل گزر گیا اور 22 جولائی کا بھی بڑا حصہ بیت گیا، مگر دہلی پولیس نے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔ اسی دوران احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ جنتر منتر پر دکھائی دینے والے کئی پلے کارڈز پر لکھا تھا: "مودی جی، اب آپ ہی اس ملک کو بچا سکتے ہیں، اپنا استعفیٰ دے کر۔”

ایک دوسرے پوسٹر پر درج تھا: "گھٹنوں کے بل زندگی جینے سے بہتر ہے کھڑے ہو کر مر جانا۔” جبکہ ایک اور پلے کارڈ میں لکھا گیا: "دھرمیندر پردھان پہاڑ ہیں تو ہم بھی دشرتھ مانجھی ہیں، جب تک اس پہاڑ کو توڑیں گے نہیں، تب تک چھوڑیں گے نہیں۔” بہار کے دشرتھ مانجھی، جنہوں نے پہاڑ کاٹ کر راستہ بنایا تھا، احتجاج کے دوران ایک بار پھر علامت کے طور پر یاد کیے جا رہے ہیں۔

اب سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی نظم کے اشعار بھی مودی حکومت کے خلاف احتجاج میں سنائی دے رہے ہیں۔ جنتر منتر کے اس احتجاج نے عوامی مزاحمت کی زبان اور انداز دونوں کو بدل دیا ہے۔ ایک پوسٹر پر لکھا تھا: "ڈائپر بھی لیک نہیں کرتا، پیپر لیک ہو جاتا ہے۔” جبکہ ایک طالبہ نے سوال اٹھایا: "آخر اچھے دن کب لیک ہوں گے؟”

سال 2014 میں نریندر مودی نے خود کو "پردھان سیوک” کہا تھا، مگر اب اسی اصطلاح کو احتجاجی طنز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ "من کی بات” کو بعض پوسٹروں میں "Monkey Baat” لکھا گیا، جبکہ بعض نعروں میں وزیراعظم کو براہ راست مخاطب کیا جا رہا ہے۔ ایسے نعرے، جن سے سیاسی جماعتیں ماضی میں گریز کرتی رہی ہیں، اب طلبہ اور نوجوانوں کی زبان پر ہیں۔

طلبہ کی نئی نسل ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں مؤثر سیاسی اظہار کر رہی ہے۔ Gen Z کی یہ زبان اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملک کے جمہوری اداروں، بشمول الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ، کو عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت دی کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، لیکن اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی اسی متنازع بیان کے ذریعے قومی بحث کا حصہ بن چکی تھی۔ شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک علامتی کردار ہندوستانی سیاست میں اس حد تک زیر بحث آ جائے گا یا حالات اس نہج تک پہنچ جائیں گے کہ مودی حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا مشکل محسوس ہونے لگے۔

آخر میں اس نعرے کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں جو احتجاج میں شریک بچوں نے بلند کیا:

"وہ ڈرتا ہے کہیں ہم اُس سے ڈرنا نہ چھوڑ دیں۔”

✍️ تحریر: رویش کمار

نوٹ: یہ ایک رائے/ادارتی مضمون (Opinion Article) ہے۔ اس میں بیان کیے گئے خیالات مصنف رویش کمار کے ہیں، ضروری نہیں کہ ادارہ UrduDuniyaNews ان سے متفق ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button