
سب کچھ چاہیے مگر شادی نہیں کا رجحان درست نہیں -آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت
لِو اِن ریلیشن شپ پر بھی سوالات
حیدرآباد، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ جدید دور میں "سب کچھ چاہیے لیکن شادی نہیں” جیسا رجحان سماجی توازن کے لیے مناسب نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وقت کے بدلنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر روایت کو نظر انداز کر دیا جائے، بلکہ معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
حیدرآباد کے بنجارہ ہلز میں منعقدہ وشومانگلیہ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ جو لوگ دھرم کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں، ان کے لیے شادی کا ادارہ اہم اور ضروری ہے۔ انہوں نے لِو اِن ریلیشن شپ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے سماجی اثرات پر غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس موقع پر LGBTQ برادری کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو ان افراد کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور ہر انسان کے ساتھ مساوی احترام کا برتاؤ ہونا چاہیے۔
موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں خاندانی نظام، مادریت اور سماجی اقدار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زبان، لباس یا ظاہری شکل مختلف ہو سکتی ہے، لیکن روحانی اعتبار سے تمام انسان ایک ہیں۔ ان کے مطابق دھرم پر عمل کرنا انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ اس سے دوری معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برہمچاری اور شادی شدہ افراد کی زندگی کے اصول الگ ہوتے ہیں اور ہر مرحلے کے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تخلیقِ کائنات سے ہی مادریت کا سلسلہ جاری ہے اور ماں کو صدیوں کے تجربے اور تربیت کا منفرد مقام حاصل ہے۔
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ اگرچہ مرد اور عورت جذبات کے اعتبار سے برابر ہیں، تاہم ماں بننے کی نعمت صرف خواتین کو حاصل ہے، اسی لیے خاندان کی تشکیل اور اس کے استحکام میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران ہندوستانیوں کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ آج تبدیلی کے نام پر ہر نئی روایت کو قبول کرنے کے بجائے اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر موہن بھاگوت نے کہا کہ ایک طرف ہم خواتین کو دیوی کا درجہ دیتے ہیں، لیکن دوسری جانب انہیں عملی زندگی میں برابری کا مقام نہیں دیتے۔ ان کے مطابق کوئی بھی عورت غلام کی طرح زندگی گزارنا نہیں چاہتی بلکہ عزت، مساوات اور احترام کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے خاندان کے رشتوں کو مضبوط رکھنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔



