تلنگانہ کی خبریں

مرکزی ملازمین کے بچوں کو بھی میڈیکل داخلوں میں لوکل امیدوار ماننے کی ہدایت، تلنگانہ ہائی کورٹ

والدین کی ملازمت کے باعث ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو بھی طبی داخلوں میں مقامی امیدوار کا درجہ دینے کا حکم

حیدرآباد، 19 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)تلنگانہ ہائی کورٹ نے میڈیکل داخلوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست سے باہر تعینات مرکزی سرکاری ملازمین کے بچوں کو بھی مخصوص حالات میں مقامی امیدوار (Local Candidate) تصور کیا جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں موجود قواعد میں باضابطہ ترمیم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے یہ حکم NEET-UG 2026 کی امیدوار کودیمیلا سمیہتا کی درخواست پر دیا۔ سمیہتا نے 2026-27 کے تعلیمی سال میں MBBS اور BDS داخلوں کے لیے انہیں لوکل امیدوار تسلیم نہ کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔

تلنگانہ میں میڈیکل داخلوں کے لیے عام طور پر لوکل امیدوار کا درجہ حاصل کرنے کے لیے طالب علم کا مسلسل چار تعلیمی سال ریاست میں تعلیم حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی حیثیت کی بنیاد پر مقامی طلبہ کے لیے مختص میڈیکل نشستوں پر داخلے کی اہلیت طے کی جاتی ہے۔

سمیہتا کے معاملے میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ان کے والد، جو ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ESIC) میں ملازم ہیں، دسمبر 2016 میں حیدرآباد سے تروپتی منتقل ہوگئے تھے۔ وہ مئی 2024 میں دوبارہ حیدرآباد تعینات ہوئے۔ اس دوران سمیہتا نے آندھرا پردیش میں اپنی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی۔

تلنگانہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن رولز 2017 میں ترمیم کے بعد ان طلبہ کو بھی لوکل امیدوار تسلیم کرنے کی گنجائش موجود تھی جو والدین کی ملازمت کے باعث ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

تاہم اس میں بنیادی طور پر ریاستی سرکاری ملازمین، تلنگانہ کیڈر کے آل انڈیا سروسز افسران، دفاعی و نیم فوجی اہلکاروں اور ریاستی سرکاری کارپوریشنوں کے ایسے ملازمین کے بچوں کو استثنیٰ حاصل تھا جن کی ملازمت میں تبادلے کی گنجائش ہوتی ہے۔

چونکہ سمیہتا کے والد مرکزی حکومت کے ادارے ESIC میں ملازم ہیں، اس لیے وہ ان چار زمروں میں شامل نہیں ہو رہی تھیں۔

سمیہتا کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مرکزی اور ریاستی سرکاری ملازمین کے بچوں کے درمیان اس معاملے میں امتیاز کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں والدین کے تبادلے کے باعث بچوں کو ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنا پڑ سکتی ہے، اس لیے مرکزی سرکاری ملازمین کے بچوں کو استثنیٰ سے محروم رکھنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

وکیل نے عدالت کے ایک سابقہ عبوری حکم کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسی نوعیت کے اخراج کو بادی النظر میں من مانی قرار دیا گیا تھا۔

تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ استثنیٰ کی بنیاد مرکزی سرکاری ملازمین کے بچوں تک بھی بڑھائی جانی چاہیے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قواعد میں وضاحتی ترمیم پہلے ہی زیر غور ہے۔

ریاستی حکومت کے اس مؤقف کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے فی الحال اس سوال پر فیصلہ دینا ضروری نہیں سمجھا کہ موجودہ شق آئینی طور پر درست ہے یا نہیں۔

مرکزی ملازمین کے بچوں کو بھی لوکل امیدوار ماننے کی ہدایت

عدالت نے ہدایت دی کہ باضابطہ ترمیم جاری ہونے تک متعلقہ شق کو اس طرح پڑھا جائے کہ اس میں مرکزی سرکاری ملازمین، مرکزی حکومت کی کارپوریشنز اور مرکزی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (PSU) کے ملازمین کے بچے بھی شامل ہوں۔

عدالت نے متعلقہ یونیورسٹی کو سمیہتا کو جاری کاؤنسلنگ عمل میں لوکل امیدوار کے طور پر شامل کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو قواعد میں باضابطہ ترمیم جلد جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ راحت فی الحال pro tanto بنیاد پر ہوگی، یعنی ضرورت کی حد تک اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک حکومت کی جانب سے باقاعدہ ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوجاتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button