
حیدرآباد، 21 اگست :مہنگائی سے پہلے ہی پریشان عوام کو شکر کی بڑھتی قیمتوں نے مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 15 دن کے دوران شکر کی قیمت 46 روپے فی کلو سے بڑھ کر 60 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 15 دن پہلے شکر 46 روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی، جو ایک ہفتہ قبل بڑھ کر 52 روپے ہوگئی۔ اب اس کی قیمت 60 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی بہتر نہ ہوئی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو نہ پایا گیا تو قیمت 65 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔
شکر کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر گھریلو بجٹ پر پڑ رہا ہے۔ چائے، کافی، مٹھائی، بیکری مصنوعات، مشروبات اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق شکر کی قیمت بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ گنے کی پیداوار والے اہم علاقوں میں کم بارش کے باعث فصل متاثر ہوئی ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں شکر کے ذخائر میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ ICRA کے اندازوں کے مطابق ستمبر کے اختتام تک ملک میں شکر کا ذخیرہ تقریباً 4.3 ملین ٹن رہ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ گنے کے رس اور دیگر خام مال کا ایک حصہ ایتھنول کی تیاری میں استعمال ہونے سے شکر کی پیداوار اور مارکیٹ میں دستیابی بھی متاثر ہوئی ہے۔
گنیش چترتھی، دسہرہ اور دیوالی جیسے تہواروں کی آمد کے ساتھ مٹھائی، بیکری، پروسیسڈ فوڈ اور مشروبات کی صنعت میں شکر کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔ اگست سے نومبر کے دوران بڑھتی ہوئی طلب سپلائی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔



