
مظفر نگر میں مدرسہ مسمار، سرکاری زمین پر تعمیر کا الزام؛ تین گرفتار
مظفر نگر میں دارالعلوم رحیمیہ مسمار، محکمہ مال کی تحقیقات کے بعد کارروائی
مظفر نگر، 24 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں ایک مدرسے کی عمارت کو انتظامیہ نے بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔ پولیس کے مطابق پھلت گاؤں میں واقع دارالعلوم رحیمیہ کو ریونیو حکام کی تحقیقات کے بعد غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، جبکہ جس زمین پر مدرسہ قائم تھا اسے بھی سرکاری اراضی قرار دیا گیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے کمار نے بتایا کہ ریونیو حکام کی جانب سے کی گئی جانچ میں مدرسے کی قانونی حیثیت اور زمین کے ریکارڈ کی جانچ کی گئی تھی۔ تحقیقات کے بعد انتظامیہ نے مدرسے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کی۔
پولیس کے مطابق مدرسے کی عمارت جس زمین پر تعمیر کی گئی تھی، اسے 17 اگست کو سرکاری زمین قرار دیا گیا۔ اس کے بعد اتوار 23 اگست کو پولیس کی موجودگی میں مدرسے کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ مدرسے کے انچارج مولانا حفیظ الرحمٰن اور ان کے دو بیٹوں زبیر اور جنید کے خلاف پہلے سے ایک مقدمے کی تحقیقات جاری تھیں۔ اسی معاملے کی جانچ کے دوران مدرسے کی قانونی حیثیت اور اس کی تعمیر کے لیے استعمال کی گئی زمین سے متعلق معلومات بھی سامنے آئیں۔
مولانا حفیظ الرحمن اور ان کے دونوں بیٹوں کو 6 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 352 اور 351 کے ساتھ اتر پردیش پروہیبیشن آف اَن لافُل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ 2021 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 352 امن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنے اور دفعہ 351 مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہے۔ معاملے میں مدرسے کی عمارت کو مسمار کرنے کی کارروائی زمین کے سرکاری قرار دیے جانے کے بعد کی گئی۔



