تہران ،22جون :(اردودنیا/ایجنسیاں)ایران کے نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ نہ وہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے اور نہ ہی ایران کے میزائل پروگرام اور خطے کے عسکری گروہوں کی حمایت کے معاملے پر کوئی مذاکرات ہوں گے۔صدرمنتخب ہونے کے بعد پیر کو اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابراہیم رئیسی نے کہا کہ صدر بائیڈن کو ایران پر عائد پابندیاں ختم کر کے اپنی سنجیدگی ثابت کرنا ہو گی۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایک سوال کے جواب میں رئیسی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو مشورہ دوں گا کہ وہ جوہری معاہدے کی طرف واپس آ جائے کیوں کہ یہ ایرانی قوم کا مطالبہ ہے۔خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ امریکہ کے صدر سے ملاقات کرنا چاہیں گے تو اس پر انہوں نے صرف ’نہیں‘ کہنے پر اکتفا کیا۔
نومنتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے جب 1988 میں ایران میں پانچ ہزار سے زائد افراد کو مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر موت کی سزاؤں کے فیصلوں میں ملوث ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بطور وکیل وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ابراہیم رئیسی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ 1980 کی دہائی میں عراق ایران جنگ کے بعد ایران میں مبینہ طور پر سیاسی مخالفین کو سزائیں دینے کے لیے بنائے گئے ’ڈیتھ پینل‘ میں شامل تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی جواب دہی اور ان کا دفاع کرنے والوں کی تحسین ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ بطور پراسیکیوٹر جنرل میں نے لوگوں کے حقوق کا دفاع کیا ہے۔ابراہیم رئیسی کا مزید کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک سے تعلقات کی بحالی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے لیے ایک دوسرے کے ممالک میں سفارت خانے کھولنا ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک سے بات چیت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ابراہیم رئیسی کی انتخابات میں کامیابی کی تصدیق ہونے کے بعد اتوار کو امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری پروگرام سے روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے میں امریکہ کی دوبارہ شرکت کا انحصار ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے فیصلوں پر ہوگا۔ابراہیم رئیسی اگست میں اپنے منصب پر فائز ہوں گے
جس کے بعد اعتدال پسند سمجھے جانے والے موجودہ صدر حسن روحانی کاآٹھ سالہ دورِ اقتدار ختم ہو جائے گا۔ لیکن امریکہ کے مشیربرائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے اتوار کو ’اے بی سی نیوز‘ کے شو ’دِس ویک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کون منتخب ہوا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس سے زیادہ اہم نہیں کہ ان (ایران) کا پورا نظام جوہری ہتھیاروں سے ایران کی دست برداری کے لیے قابلِ تصدیق وعدوں کے لیے تیار ہے یا نہیں۔



