
کابل،19اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے ملک چھوڑ کر بھاگنے والے مفرور صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ انہوں نے خون خرابے سے بچنے کے لیے کابل کو چھوڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کابل میں رہتے تو خونریزی کا خدشہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کابل میں رہتا تو بہت سی انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا۔افغانستان سے فرار ہونے کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجبوری میں افغانستان سے گیا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا اچانک افغانستان چھوڑنا امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تھا۔
#مفرور #افغان #صدر #اشرف #غنی نے کہا کہ وہ افغانستان کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ کثیر رقم ساتھ لے جانے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ انہون ںے کہا کہ لوگ صورتحال سے آگاہ ہوئے بغیر ہی طعنہ دے رہے ہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ وہ #افغانستان کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ ان سے قبل بھی بہت سے افغان لیڈر ملک سے باہر گئے اور پھر واپس آگئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ واپسی کے لیے پر امید ہیں۔ ان کا کہنا تھا ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ کتاب ہے۔مفرور صدر اشرف غنی نے دعویٰ کیا کہ ان پر جو بھی الزامات لگے وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کابل میں آکر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں مجھے تلاش کر رہے تھے۔افغانستان کے مفرور صدر ںے کہا کہ کابل میں کوئی خونریزی نہیں ہوئی جو اللہ کا بڑا احسان ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر آزاد ہو گا اور ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔
افغان صدر اشرف غنی کا انسانی بنیادوں پر استقبال کیا:متحدہ عرب امارات
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد ملک چھوڑ کر جانے والے صدر اشرف غنی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں موجود ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وزارت خارجہ تصدیق کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے صدر اشرف غنی اور ان کے خاندان کا انسانی بنیادوں پر ملک میں خیرمقدم کیا ہے۔ #خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں متحدہ عرب #امارات کی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اشرف غنی کی متحدہ عرب امارات میں موجودگی کی تصدیق کی۔
طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے #انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو گرفتار کرلیا جائے۔ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو سرکاری خزانہ لوٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے تاکہ فنڈ افغانستان کو واپس مل سکیں۔
تاجکستان میں افغانستان کے سفیر محمد ظاہر اغبار نے کہا کہ آئین کے مطابق صدر کی غیرحاضری، ملک چھوڑ جانے یا موت کی صورت میں سینئر نائب صدر نگران بن جاتا ہے اور اس وقت امر اللہ صالح سرکاری طور پر قائم مقام صدر ہیں۔ خیال رہے کہ 16 اگست کو افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کے قریبی ساتھی ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ان کے مقام کا تعین نہیں کیا جاسکا تھا جبکہ طالبان قیادت نے اپنے جنگجوؤں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کا حکم دے دیا تھا۔
ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اشرف غنی تاجکستان چلے گئے ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے آن لائن ویڈیو بیان میں اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘وہ مشکل وقت میں افغانستان چھوڑ گئے ہیں، اللہ ان سے پوچھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی مشکل وقت میں ملک کو چھوڑ کر گئے ہیں، جس پر انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
افغانستان چھوڑ کر جانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں اشرف غنی نے طالبان سے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خون ریزی سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ گئے ہیں کیونکہ طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے تھے۔افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں رک جاتے تو یقین تھا کہ بے شمار محب وطن شہید ہوتے اور کابل شہر تباہ ہوجاتا۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان جیت چکے ہیں اور اب وہ اپنے ہم وطنوں کی عزت، املاک اور سلامتی کے ذمہ دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اب ایک نئے تاریخی امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، کیا وہ اپنے نام اور افغانستان کی عزت محفوظ کریں گے یا پھر وہ دیگر جگہوں اور نیٹ ورکس کو ترجیح دیں گے ۔اشرف غنی نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کون سے ملک چلے گئے ہیں لیکن افغانستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ طلوع نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ تاجکستان جا چکے ہیں۔



