بین الاقوامی خبریں

ترک صدر کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان-ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر قدم اٹھائیں گے: چاوش اولو

انقرہ ،19اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ افغانستان میں ترک فوجیوں کی موجودگی نئی افغان حکومت کے ہاتھ عالمی سطح پر مضبوط بنانے میں مدد کرے گی۔ترک صدر نے اس بات کا اظہار نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ممکن ہو سکتا ہے ،ان کے معتدل اور مثبت بیانات خوش آئند ہیں،ترکی افغانستان میں بسے ترک نسل عوام کے تحفظ اور ملکی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ تعاون کے لیے تیار ہے۔

صدر نے کہا کہ ہماری فوج کو افغانستان میں اجنبی نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی فوج نے وہاں اپنی طاقت کابے دریغ استعمال کیاہے۔ ترک صدر نے مزید کہا کہ ہماری فوج نئی افغان حکومت کے عالمی سطح پر ہاتھ مضبوط کرنے میں تعاون کرے گی۔ کابل کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کیلئے افغان حکام سے روابط میں ہیں۔انہوںنے کہا کہ افغانستان میں خواہ جس کی بھی حکومت ہو ترکی اپنے عہد وفا اور برادرانہ تعلقات کے احترام میں افغانستان کی مدد کرتا رہے گا۔

ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر قدم اٹھائیں گے: چاوش اولو

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ افغانستان میں متوقع نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر قدم اٹھائیں گے۔ چاوش اولو نے دارالحکومت انقرہ میں افغانستان کی صورتحال سے متعلق اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دئیے۔انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود تمام ترک #شہریوں کے ساتھ ہم نے فرداً فرداً رابطہ کیا ہے اور شہریوں کی طلب پر ہم انہیں #وطن واپس لا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ #انخلا کے کام میں ہم نے دیگر ممالک کی بھی مدد کی ہے۔ بہت سے ممالک ہمارے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ وہاں ترکی کے کردار کی وجہ سے ہم اپنے فوجیوں کے بھی شکر گزار ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کے ساتھ رابطہ کیسے قائم کیا جا رہا ہے؟ کیا طالبان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات پر غور کیا جا رہا ہے؟ #چاوش اولو نے کہا ہے کہ کابل میں داخلے سے قبل ہم نے طالبان کے سیاسی ونگ کو ترکی مدعو کیا تھا۔

انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان کے کل ٹیلی ویڑن چینل پروگرام میں کہے گئے ان الفاظ کی بھی یاد دہانی کروائی کہ ہم #طالبان نمائندوں کے ساتھ ملاقات کر سکتے ہیں۔چاوش اولو نے کہا ہے کہ مختلف راستوں سے ہمارے درمیان رابطہ موجود ہے۔ خواہ کابل سے ہو خواہ دوحہ سے ہم رابطے میں ہیں اور رابطے میں ہونا ضروری بھی ہے۔افغانستان میں قیام حکومت کی کوششوں اور قائم کی جانے والی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں چاوش اولو نے کہا ہے کہ پہلے ہمارا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیسی حکومت قائم کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button