بین الاقوامی خبریں

طالبان نے کابل کی سکیورٹی حقانی نیٹ ورک کے حوالے کر دی

نیویارک ،20اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ذرائع کے مطابق #طالبان نے #افغان #دارالحکومت #کابل کی #سیکیورٹی #حقانی نیٹ ورک کے سینئیر اراکین کے حوالے کردی ہے،جن کے القاعدہ سمیت غیر ملکی جہادی گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔ #امریکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے جیمی ڈیٹمر کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے انٹیلی جنس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو یہ ذمہ داری دینا پریشان کن امر ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ #طالبان کے وعدے کچھ جب کہ ان کا عمل کچھ اور ہے۔

طالبان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ 1996سے 2001 تک کے دور کے بر عکس اعتدال کا راستہ اپنائے گی۔انٹیلی جنس عہدے داروں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ القاعدہ کو دوبارہ افغانستان میں میں راستہ دیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ گزشتہ سال طالبان نے امریکی عہدیداروں سے قطر میں جو وعدے کئے تھے، ان کی پاسداری نہیں کی جائے گی۔ طالبان نے دوحہ میں وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین غیر ملکی جہادیوں کی آماجگاہ نہیں بننے دی جائے گی۔

افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ، عبداللہ عبداللہ نے کابل میں خلیل الرحمن حقانی کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کی، مفاہمتی کونسل میں نامور عمائدین شامل ہیں جنھوں نے قطر کی بات چیت میں شرکت کی تھی۔بعد ازاںعبداللہ نے اس بات کا اعلان کیا کہ خلیل الرحمن حقانی افغان دارالحکومت کی سیکیورٹی کی نگرانی کریں گے، اور یہ کہ انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ کابل کے شہریوں کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سخت محنت کی جائے گی۔

امریکی محکمہ خزانہ نے فروری 2011میں خلیل الرحمن حقانی کو دہشت گرد قرار دیا تھا، اور کہا تھا کہ ان کے بارے میں اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ان کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرست میں بھی شامل ہے۔عبداللہ عبداللہ اور خلیل الرحمٰن حقانی کی ملاقات سے چند ہی گھنٹے قبل، طالبان نے افغانستان کی اسلامی امارات کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔

انٹیلی جنس کے ایک برطانوی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ایک پریشان کن حقیقت ہے کہ خلیل الرحمن حقانی کو کابل کی سکیورٹی کا انچارج بنایا گیا ہے۔بقول ان کے، حقانی اور القاعدہ کے آپس میں پرانے تعلقات ہیں، آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ دراصل وہ ایک ہی ہیں، اس لیے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ باہمی تعلقات منقطع کر دیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button