بین الاقوامی خبریں

طالبان کو فیصلوں کا اختیار، خودمختاری ، چینی صدر نے 3 نکاتی حل دیدیا

دوشنبے ،20ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تاجکستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے 3 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں چائنا میڈیا گروپ کے ایک مضمون کے حوالے سے لکھا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرنے، افغان سربراہی میں امن عمل کو جاری رکھنے اور افغان عوام کو خود اپنے ملک کا مستقبل طے کرنے کا موقع دینے کا سہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔

صدر جن پنگ نے مزید کہا کہ افغانستان میں صورت حال افراتفری سے استحکام کی جانب رواں دواں ہے اور قریبی ہمسائے ہونے کی وجہ سے ہم افغانستان سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ چینی صدر نے مطالبہ کیا کہ افغان تنازعے کو تمام دھڑوں سے بات چیت کر کے اور وہاں کی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے جلد سے جلد سیاسی حل کے ذریعے ختم کیا جائے۔

صدر شی جن پنگ نے مزید کہا کہ اسی طرح عالمی برادری میں واپسی کے لیے طالبان حکومت سے بھی بات چیت کی جائے۔ چین افغانستان کی انسانی بنیادوں پر امداد اور پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کی حامی بھر چکا ہے۔ جب کہ وہ ممالک جن کی وجہ سے افغانستان کا آج یہ حال ہے انھیں بھی قدم بڑھانا چاہیئے۔

چینی صدر نے افغانستان کی موجودہ صوت حال کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو قرار دیا۔ایک رپورٹ کے مطابق تاجکستان کے دارالحکومت دو شنبے میں منعقد 2 روزہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے موقع پر روس کے صدر لادی میر پیوٹن نے اپنے خطاب میں افغانستان کے حوالے سے کہا کہ طالبان افغانستان کے مکمل مالک بن چکے ہیں اور عبوری حکومت بھی بنا لی ہے جبکہ اس نے افغانستان کے مستقبل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عبوری حکومت کو حقیقی طور پر نمائندہ یا جامع حکومت نہیں کہا جا سکتا۔ ہم یہاں دوسرے نسلی گروہوں کے نمائندوں کو نہیں دیکھتے لیکن ان کے ساتھ بھی کام کرنا ضروری ہے۔

علاوہ ازیں چین کے صدر شی جن پنگ نے ایس سی او کے رکن ممالک کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ کابل کے ساتھ تعاون کو تیز کریں، ایس سی او کو ’’افغانستان رابطہ گروپ‘‘ جیسے پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کرنا اور افغانستان میں ہموار منتقلی کو آسان بنانا چاہیے۔ شی جن پنگ نے مزید کہا کہ افغانستان کی حوصلہ افزائی اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button