برلن ،7نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ نے حکام کو متنبہ کیا ہے کہ ملک میں کورونا وبا کے منکرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جرمنی کو اس وقت کورونا وبا کی چوتھی لہر کا سامنا ہے۔جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایک انتہا پسند تنظیم ”کْویرڈینکن‘‘ نے ہفتہ چھ نومبر کو لائیپزگ شہر میں ایک مظاہرے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
یہ تنظیم کورونا کی حقیقت سے انکاری ہے اور ویکسینیشن کی بھی مخالفت کرتی ہے۔دوسری جانب یورپ کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک جرمنی میں کورونا انفیکشنز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
برلن حکام نے اسے وباء کی چوتھی لہر قرار دیا ہے۔انٹیلی جنس محکمے کے سربراہ اشٹیفان کرامر Stephan Kramer نے کہا کہ روز بروز دائیں بازو کے حلقے کے افراد کی جانب سے لوگوں کی بے عزتی کرنے، مذاق اڑانے، مارپیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی جارحانہ مزاج کا مظاہرہ تھیورنگیا سمیت کئی دوسری ریاستوں میں بھی سامنے آیا ہے۔
کرامر کے مطابق دائیں بازو کے افراد میں یہ جارحانہ رویہ بوسٹر لگانے کے اعلان کے بعد مزید شدید ہو سکتا ہے۔ اس وقت دائیں بازو کے افراد کا ایسا منفی رویہ سارے ملک میں برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اشٹیفان کرامر کے مطابق دائیں بازو کے افراد کی جانب سے کورونا وباء کی چوتھی لہر کے تناظر میں بوسٹر کی فراہمی پر بھی خفگی سامنے آئی ہے اور لائپزگ شہر میں چھ نومبر کا مظاہرہ اسی رویے کا عکاس ہے۔
جرمن ریاست سیکسنی کے سب سے بڑے شہر لائپزگ میں ایک مقامی تنظیم ‘موومنٹ لائپزگ‘ نے ایک مظاہرے کا انتظام کیا۔ یہ تنظیم ویکسین مخالف ہے۔ یہ مظاہرہ حکومت کی جانب سے لائپزگ میں انسداد کورونا کے لیے حالیہ نافذ کردہ اقدامات کے خلاف کیا جا رہا ہے۔اس مظاہرے میں شرکت کے لیے منتظمین نے تین ہزار افراد کے شریک ہونے کا بتایا تھا لیکن اب اس ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کورونا انفیکشنز کی بڑھتی تعداد کے تناظر میں مظاہرے میں صرف ایک ہزار افراد کو شریک ہونے کی اجازت دی ہے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
سیکسنی کی ریاست تھیورنگیا کی ہمسایہ ہے، جہاں کویرڈینکن نامی انتہا پسند تنظیم سر گرم ہے۔انٹیلی جنس حکام نے واضح کیا ہے کہ دائیں بازو کے مظاہروں کے جواب میں بھی ویکسین کے حامیوں نے احتجاج کی منصوبہ بندی کی ہے اور پولیس نے خود کو ایک بڑی کارروائی کے لیے بھی تیار کر رکھا ہے۔
انتہا پسندکویرڈینکن نامی احتجاجی تحریک بنیادی طور پر ان افراد کی قائم کردہ ہے، جو کھلے عام کورونا وباءاور حفاظتی اقدامات (ماسک لگانے اور سماجی فاصلے وغیرہ) کے منکر ہیں۔ اس تنظیم میں دائیں بازو کے سرگرم اراکین شامل ہیں اور یہ مسلسل ویکسین مخالف مہم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسی تنظیم نے وباء کی شدت کے دوران کئی ویکسین مخالف مظاہروں کا انتظام بھی کیا تھا۔ ان میں بعض مظاہروں میں تشدد بھی دیکھا گیا تھا۔ اب اس تنظیم نے کورونا بوسٹر کی مخالفت بھی شروع کر دی ہے۔ دائیں بازو کی اس تنظیم کے اراکین تھیورنگیا ریاست میں خاصے متحرک ہیں۔



