خرطوم ،3؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سوڈان کے وزیرِ اعظم عبداللہ حمدوک نے ملک میں جاری سیاسی بحران اور بڑے پیمانے پر ہونے والے فوج مخالف مظاہروں کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سوڈان کی فوج نے 25 اکتوبر کو سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر وزیرِ اعظم حمدوک کو معزول کرتے ہوئے انہیں گھر میں ہی نظر بند کر دیا تھا۔
البتہ نومبر میں ایک معاہدے کے تحت انہیں دوبارہ بحال کیا گیا، لیکن ملک میں سیاسی بحران پھر بھی ختم نہیں ہو سکا تھا۔ملک میں جمہوریت نواز حلقوں نے عبداللہ حمدوک کو دوبارہ وزیرِ اعظم بنائے جانے کی مخالفت کی تھی۔
سوڈانی وزیرِ اعظم نے اتوار کو رات گئے سرکاری ٹیلی وژن پر ایک بیان میں عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔اپنے بیان میں عبداللہ حمدوک نے کہا کہ سوڈان کے سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ایک مباحثے کا انعقاد کیا جائے جس میں جمہوریت کی طرف واپسی کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔
عبداللہ حمدوک کا کہنا تھا کہ میں بطور وزیرِ اعظم اپنے عہدے سے سبک دوش ہو رہا ہوں تاکہ کوئی اور میری جگہ لے کر ملک کو جمہوری طرزِ حکومت کی طرف لے جانیمیں ہماری مدد کرے۔البتہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عبداللہ حمدوک کے استعفے کے باعث سوڈان میں غیر یقینی مزید بڑھے گی۔
تین سال قبل سوڈان میں اس وقت کے صدر عمر البشیر اور ان کی حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک کے نتیجے میں انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا، لیکن اس کے بعد سے ہی ملک عدم استحکام کا شکار ہے۔عمرالبشیر کے اقتدار چھوڑنے کے بعد ایک سیاسی تصفیے کے تحت 2019 میں عبداللہ حمدوک نے اقتدار سنبھالا تھا جس کے تحت 2023 میں عام انتخابات کا انعقاد ہونا تھا۔
البتہ گزشتہ برس فوج نے عبداللہ حمدوک کی حکومت کا تختہ الٹ کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔فوجی سربراہ عبدالفتاح البرہان نے نومبر میں ہونے والے معاہدے کے دوران اعلان کیا تھا کہ عبداللہ حمدوک نئے انتخابات تک ایک نئی ٹیکنوکریٹ حکومت کی قیادت کریں گے۔
البتہ فوج اور حمدوک حکومت کے درمیان اختیارات کی کشکمش جاری تھی جب کہ مہنگائی، بے امنی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک میں بے چینی بڑھ رہی تھی۔سوڈان میں ڈاکٹروں کی ایک تنظیم کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد سے سوڈان میں اب تک مختلف مظاہروں کے دوران 57 افراد ہلاک جب کہ سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
اتوار کو اپنے خطاب میں عبداللہ حمدوک نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے جس سے پہلے سے ہی کمزور ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں سوڈان کے رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر ملک کی بہتری کے لیے اقدامات کریں۔
ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں 2019 کو طے پانے والے آئینی معاہدے کے تحت نئے وزیرِ اعظم کی تقرری عمل میں لائی جائے۔



