بین الاقوامی خبریں

گوانتانامو بے حراستی مرکز کے قیام کو 20 سال مکمل-عالمی اداروں کا قیدیوں کی منتقلی کا مطالبہ

نیویارک، 19جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گوانتانامو بے میں امریکہ کی جانب سے مبینہ دہشت گردوں کو قید میں رکھنے اور مقدمے چلانے کے لیے قائم کیے جانے والے حراستی مرکز کو بیس سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر ہیومن رائٹس واچ اور ریڈ کریسنٹ جیسے حقوق کے عالمی ادارے اس حراستی مرکز میں مبینہ خلاف ورزیوں کا احاطہ کرتے ہوئے یہاں موجود باقی ماندہ قیدیوں کی منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گوانتا ناموبے کے اس حراستی مرکز میں ان غیر ملکی مسلمان مردوں اور نو دیگر بالغوں کو قید رکھا گیا جن پر عالمی دہشت گردی کا الزام تھا۔ یہ مرکز امریکہ پر نائن الیون کے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کے لیے بنایا گیا تھا اور اس میں رکھے جانے والے زیادہ تر افراد افغانستان سے گرفتار کر کے لائے گئے تھے۔گوانتانامو بے کے قیام کے بیس سال مکمل ہونے پر ہومین رائٹس واچ اور براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پراجیکٹ پروگرام نے اپنی جاری کردہ رپورٹس میں بتایا ہے کہ حراستی مرکز میں دو عشروں کے دوران کس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی رہیں اور بیس سال کے بعد بھی وہاں کئی لوگ بغیر مقدمہ چلے قید و بند کی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق گیارہ جنوری 2002 کو اس مرکز کے قیام کے بعد سے یہاں کم و بیش780 مسلمان مردوں اور لڑکوں کو لایا گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان اور عراق میں فوجی قیدخانوں میں ہزاروں مسلمانوں کو قید رکھا۔ تاہم واشنگٹن گوانتانامو بے سمیت مختلف حراستی مراکز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیس سال کی اس مدت کے دوران امریکہ نے گوانتانامو بے سے کئی قیدیوں کو واپس بھیج دیا ہے، لیکن وہاں اب بھی 39 مسلمان قیدی رہ رہے ہیں جن میں سے 27 کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقدمہ چلانے کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ جن افراد پر 9/11 کی دہشت گردی کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا گیا تھا، انہیں بھی ابھی تک عدالت میں نہیں لایا جا سکا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت ادا کی اور اس سلسلے میں اخراجات کا تخمینہ پانچ اعشاریہ 48ٹرلین ڈالر سے زیادہ ہے۔گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں قیدیوں کو رکھنے پر سالانہ5 کروڑ ڈالر خرچ کیے جاتے رہے۔

رپورٹ کے مصنفین نے بائیڈن انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کو بند کر دے اور آئندہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اہم اصلاحات کرے جن میں بڑے پیمانے پر شفافیت لانا بھی شامل ہو۔گوانتا نامو بے جیل کو بیس سال مکمل ہونے کے موقع پر انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی (ہلال احمر) نے بھی کیوبا میں واقع حراستی مرکز گوانتانامو بے میں رکھے گئے باقی ماندہ قیدیوں کے بارے میں گہری تشویس کا اظہار کیا ہے اور جو کئی برسوں سے یہاں مقیم ہیں اور جن کے بارے میں کچھ واضح نہیں ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔

بین الاقوامی ادارے نے  جاری اپنے ایک بیان میں امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ان تمام قیدیوں کو بلا تاخیر باہر منتقل کرے جو منتقلی کے اہل ہیں اور اس ضمن میں ان کی عزت نفس، تحفظ اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کے موقعوں کا خیال رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button