بین الاقوامی خبریں

شرح پیدائش میں کمی چینی معیشت کو کیسے متاثر کرے گی؟

لندن ، 24جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) 2021 میں بھی چین میں شرح پیدائش کم رہی۔ اس کمیونسٹ ملک میں گزشتہ ایک دہائی سے بچوں کی پیدائش میں کمی نوٹ کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے مسقتبل قریب میں ہی چین مین انسانی وسائل کی کمی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔پیر کے دن چینی حکومت کی طرف سے نئے اعدادوشمار جاری کیے گئے، جس کے مطابق سن دو ہزار اکیس میں بھی گزشتہ ایک عشرے سے جاری وہ رحجان حاوی نظر آیا، جس میں چینی شہری بچے پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت چینی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہے کیونکہ ملک میں نہ صرف انسانی وسائل کی کمی رونما ہو رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی بیجنگ حکومت کے ان عزائم کو بھی خطرہ لاحق ہوتا جا رہا ہے، جن کے تحت وہ اپنی قومی دولت میں اضافہ اور عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔حکومتی اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس چین میں دس اعشاریہ چھ ملین بچے پیدا ہوئے، جو 2020 کے مقابلے میں بارہ فیصد کم تھے۔

سن 2020 میں چین میں بارہ ملین کے لگ بھگ بچے پیدا ہوئے تھے۔قومی دفتر برائے شماریات کے مطابق سن دو ہزار اکیس کے اختتام تک چین کی مجموعی آبادی ایک اعشاریہ چار سو تیرہ بلین نوٹ کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ ایک برس میں چین کی آبادی میں صرف چار لاکھ اسی ہزار نفوس کا اضافہ ہوا۔

آبادی کی شرح میں اس کمی کی وجہ سے چینی حکومت کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے، جس کے تحت وہ ایکسپورٹ اور سرمایہ کاری کے بجائے صارفین کے اخراجات کے پیش نظر نئی ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کے منصوبہ جات بنائے ہوئے ہے۔

چین میں ریٹائر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ ان ملازمتوں کے لیے مطلوبہ انسانی وسائل کی کمی کی وجہ سے چین کی معیشت کو بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ ماہرین چینی آبادی میں اضافے میں مسلسل اور بتدریج ہونے والی اس کمی کو ایک ٹائم بم بھی قرار دے رہے ہیں۔

چین نے 1980 میں آبادی پر کنٹرول اور وسائل کی بچت کی خاطر بچوں کی پیدائش کو محدود بنانے کے لیے قانون سازی کی تھی تاہم 2011 میں اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے جانے لگے تھے۔سن 2015 میں حکمران پارٹی نے اس پابندی کو ختم کیا لیکن بالخصوص ماؤں کے لیے ملازمت کے مشکل اوقات اور امتیازی سلوک کے علاوہ مہنگائی کی وجہ سے چینی والدین نے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل جاری رکھا۔

ماہرین مردم شماریات نے خبردار کیا ہے کہ آبادی میں اضافے کا تناسب اگر یہی رہا تو 2050  تک چین میں ورکنگ کلاس نصف رہ جائے گی۔ چین میں انسانی وسائل میں کمی کے حوالے سے یہ خدشات ایک ایسے وقت میں ظاہر ہو رہے ہیں، جب چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں حکمران کمیونسٹ پارٹی نے دفاعی بجٹ میں بے انتہا اضافہ کیا ہے اور عالمی اقتصادی مقابلہ بازی میں الیکٹرک کاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں حکومتی اخراجات بڑھائے ہیں۔

جاپان، جرمنی اور کچھ دیگر امیر صنعتی ممالک میں آبادی میں کمی اور ورکنگ کلاس کی بڑھتی ہوئی عمروں کو ایک مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم یہ ممالک فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور غیر ملکی اثاثوں پر سرمایہ کاری سے اس مشکل سے نمٹ سکتے ہیں تاہم چین کی اقتصادیات کا زیادہ تر دارومدارد کاشت کاری اور مزدوری سے جڑے شعبہ جات سے، جس کے لیے انسانی وسائل ناگزیر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button