یوکرین پر روسی جارحیت کا خدشہ: امریکہ کا اپنے 8500 فوجیوں کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا فیصلہ
نیویارک ، 25جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر پینٹگان تقریباً 8 ہزار پانچ سو فوجیوں کو ’ ہائی الرٹ‘ پر رکھ رہا ہے جن کو ممکنہ طور پر یورپ میں تعیناتی کے لیے بھجوایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب یوکرین پر روس کی طرف سے فوجی جارحیت کا خطرہ ہے اور اس ضمن میں یورپی یونین جہاں روس کو’ پہلے کبھی نظر نہ آنے والی پابندیوں‘ سے متنبہ کر رہی تھی وہیں فوجی اتحاد نیٹو نے ایسی صورتحال میں دفاعی منصوبے کو آخری شکل دے دی ہے۔
پنٹاگان کے پریس سیکیریٹری جان کربی نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی یورپ میں تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے؛ تاہم اس پر عمل درآمد اسی صورت میں ہو گا جب نیٹو اتحادی ’ ریپیڈ رسپانس فورس‘ یعنی فوری جواب دینے والی فوج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
یا پھر ایسی صورت میں یہ فوجی یورپ بھجوائے جائیں گے جب یوکرین کی سرحد کے نزدیک روسی فوج کے اضافے سے متعلق کوئی نئی صورتحال جنم لیتی ہے۔جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ہمارے عزم کا اعادہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجیوں کو بھجوانے کا مقصد ازخود یوکرین کی سرحد پر تعیناتی نہیں ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے صدر جو بائیڈن کو مشورہ دیا تھا کہ ساڑھے آٹھ ہزار فوجیوں کو ایسی صورت میں یورپ میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رکھا جائے جب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین پر فوجی دباو کم نہیں کر رہے ہیں۔
کربی نے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں بتا سکتے کہ امریکہ کے اندر موجود کون سے یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا جا رہا ہے۔وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے بتایا ہے کہ صدر بائیڈن پیر کی رات دیر گئے اتحادی یورپی راہنماوں کے ساتھ ایک وڈیو کال پر یوکرین کی سرحد پر تعینات روسی فوج میں اضافے اور کسی ممکنہ حملے کی صورت میں ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یورپی یونین کا پہلے نظر نہ آنے والی پابندیوں کا انتباہ، نیٹو نے بھی دفاعی منصوبے کو حتمی شکل دے دی۔دوسری جانب یوکرین کے خلاف روس کی فوجی جارحیت کے خدشے کے پیش نظر ماسکو اور مغرب کے درمیان تناؤ میں متواتر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دوسری جانب نیٹو نے فوج تعینات کرنے کی حکمت عملی کو آخری شکل دے دی ہے اورساتھ ہی اسلحے کی کھیپ سے بھرے بحری جہاز یوکرین روانہ کردیے گئے ہیں۔
ایسے میں جب کہ آئرلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ اس کے سمندری ساحل کی حدود کے قریب ہونے والی روسی جنگی مشقوں کی اجازت نہیں دی جائے گی، برطانیہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف سے اپنے چند سفارت کاروں کو واپس بلا رہا ہے۔
ادھر رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق، یورپی یونین نے پیر کے روز برسلز میں منعقد کیے گئے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملے پر تناؤ میں اضافے میں کمی لانے کے اقدامات کرے ، اور انتباہ جاری کیا کہ اپنے ہمسائے پر حملے کی صورت میں روس کو شدید نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ایک مشترکہ بیان میں یورپی یونین نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں طاقت کے کسی محور پر نازکرنا غلط فہمی ہو گی، روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف کسی مزید جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی شدید قیمت چکانا پڑے گی۔ تاہم نتائج سے متعلق لفظ کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔
روس نے یوکرین کی سرحد پرایک لاکھ کے قریب تعداد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔ روس حملے کی منصوبہ سازی کی تردید کرتا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
یورپی کمیشن نے، جو کہ یورپی یونین کا منتظم ادارہ ہے، یوکرین کو مالی امداد کے پیکیج کے طور پر 1.2 ارب یورو (1.36 ارب ڈالر) دینے کی تجویز منظور کر لی ہے، لیکن یورپی یونین کے رکن ملک اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ روس کے خلاف کس حد تک سختی برتی جائے۔



