تہران، 7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایران کی نیم سرکاری ’ایلنا‘ نیوز ایجنسی نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کا سر تن سے جدا کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے ملزم اور اس کے بھائی دونوں کو حراست میں لے کران سے پوچھ گچھ کی ہے۔
دونوں نے پولیس کے سامنے قتل کی گھناؤنی واردات کا اعتراف کیا ہے۔ خیال رہے کہ ایران میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کو سڑکوں پر چلتے دیکھا گیا تھا جس کے ہاتھ میں ایک خاتون کا تن سے جدا کیا گیا سر موجود تھا۔ یہ سر اس کی بیوی کا بتایا جاتا ہے جسے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر قتل کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں افراد کو ان کے جرم کے چار گھنٹے بعد ہفتے کے روز جنوب مغربی شہر اہواس سے گرفتار کیا گیا۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کو دسیوں ہزار لوگوں نے دیکھا جس میں ایک شخص کو ایک ہاتھ میں بڑا چاقو اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے ہاتھ میں لمبے بالوں والا کٹا ہوا سر پکڑا ہوا ہے۔
ایلنا نے پولیس افسر کرنل سہراب حسین نڑاد کے حوالے سے بتایا کہ ملزمان نے پولیس تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کیا جس کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ قتل کے اس گھناؤنے جرم کی ممکنہ وجہ گھریلو ناچاقی ہوسکتی ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مزید تفتیش ہو رہی ہے۔
پولیس نے دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے قتل کے بارے میں یا ریکارڈنگ سے مزید تفصیلات فراہم کیں۔ایرانی پریس کنٹرول کمیٹی نے ہفتے کے روز اہواز میں ایک قاتل کی خبریں اور ویڈیو کلپس شائع ہونے کے بعد رکنا نیوز سائٹ کو بلاک کرنے کا اعلان کیا۔
اس ویب سائٹ پرایک شخص کا اپنی 17 سالہ بیوی کا سر قلم کرنے کی خبر شائع کی گئی تھی۔کل اتوار 6 فروری کو ایرانی طلباء کی خبر رساں ایجنسی (ایسنا) نے لکھا کہ رکنا ویب سائٹ کو بلاک کرنے کی وجہ اھواز میں ایک 17 سالہ خاتون کے قتل کی ویڈیو کلپ نشر کرنا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نیوز سائٹ کا معاملہ پریس کورٹ میں اٹھایا جائے گا۔



