
عراق کے کویت پرحملے کے ہرجانے 52.4 ارب ڈالر کی ادائی مکمل،اقوام متحدہ کا کمیشن ختم
جنیوا ، ۱۱؍فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) عراق کے کویت پر 1990 میں حملے کا تاوان دلوانے کے لیے قائم اقوام متحدہ کے کمیشن نے جنیوا میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کردی ہے اور اس میں کہا ہے عراق نے کویت کو تاوان اورمعاوضے کی شکل میں 52 ارب 40 کروڑ ڈالر ادا کردیے ہیں۔
1991 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 692 کے تحت عراق کے ذمے کویت کے واجب الادا مالی معاوضے کا انتظام کے لیے یہ کمیشن قائم کیا گیا تھا اور اس نے گذشتہ برسوں کے دوران میں تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پرپانچ فی صد ٹیکس کے ذریعے فنڈزاکٹھے کیے ہیں۔
یادرہے کہ عراق کے سابق صدام حسین نے 2 اگست 1990 کواپنی فوج کو کویت پر چڑھائی کا حکم دیا تھا اور کویت کوعراق کا انیسواں صوبہ قرار دے کر اس پر قبضہ کرلیا تھا۔
اس کے سات ماہ کے بعد امریکہ کی قیادت میں فوجی اتحاد نے عراقی فوج کو کویت سے نکال باہر کیا تھا اور اس کو آزاد کرالیا تھا۔کویت کے جنگی معاوضے کے وصول کنندگان میں عام افراد، کمپنیاں، سرکاری ادارے اور دیگر گروہ شامل تھے۔
انھیں عراق کے کویت پرحملے اورقبضے کے نتیجے میں براہ راست نقصان اٹھانا پڑا تھا۔اقوام متحدہ کے کمیشن کو گذشتہ 30 سال کے دوران میں کویتیوں کی جانب سے معاوضے کے تقریباً 27 لاکھ مطالبات جمع کرائے گئے۔
درخواست گزاروں نے تقریباً 352 ارب ڈالرادا کرنے کے مطالبات کیے تھے لیکن انھیں مکمل جانچ پرکھ کے بعد 52.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔جنیوا میں باضابطہ طور پر منظور کردہ رپورٹ کے مطابق کویتیوں کو آخری ادائی 13 جنوری کو کی گئی تھی اور اس کی مجموعی مالیت قریباً 63 کروڑڈالرتھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کمیشن کے کام کی مدت ضرورت سے زیادہ لگ سکتی ہے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اس عرصے کے دوران میں 352 ارب ڈالر کے مطالبات زر کیے گئے تھے اوراس مقصد کے لیے 27 لاکھ دعوے دائر کیے گئے تھے۔
اس طرح کے بین الاقوامی دعووں کی تکمیل اور حل کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔کمیشن نے مزید کہا کہ یہ کامیابی قابل ذکر ہے اور اس نے تنازعات کے بعد مفاہمت میں حصہ لیا ہے اور اس سے بین الاقوامی قوانین کی قدرواہمیت کا بھی عکاسی ہوتی ہے۔



