
کابل،16فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر دفاع نے ایک لاکھ دس ہزار فوجیوں پر مشتمل، ایک مضبوط افغان فوج تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔قائم مقام افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے اپنے پہلے ٹیلی ویژن انٹرویو میں افغان ریڈیو ٹیلی ویژن کوبتایا کہ طالبان قیادت نے نئی فوج کی تشکیل کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ نئی فوج کے لیے 80ہزار لوگوں کی رجسٹریشن ہوچکی ہے جب کہ 10 ہزار فوجی پہلے ہی تربیت مکمل کرچکے ہیں۔گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے، اس گروپ میں جنگجوؤں کی تعداد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
طالبان کے بانی اور سابق رہنما ملا محمد عمر ، جن کا کئی برس قبل انتقال ہوچکا ہے ،ان کے بڑے بیٹے ملا محمد یعقوب ، نے کہا کہ پیشہ ور افغان باشندے، جنھوں نے سابق حکومت میں خدمات انجام دیں تھیں او روہ جنھیں سابق حکومت نے تربیت کے لیے بیرون ملک بھیجا تھا ،یہ سبھی اس نئی فوج میں شامل ہوسکتے ہیں۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے طالبان پر سابق افغان فوجی اور پولیس اہل کاروں کو اذیت دینے اور نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ملا محمدیعقوب کے موقف کو مسترد کردیا ہے۔
رپورٹ میں بتا یاگیا ہے کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے گزشتہ دہائیوں کے دوران افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور ساز وسامان کی فراہمی پر 80ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے تھے لیکن جب گزشتہ برس امریکی افواج افغانستان سے نکلیں تو یہ فوج اور پولیس منتشر ہوکر رہ گئی تھی۔
افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل جان سوپکو سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اگلے ماہ کانگریس میں یہ رپورٹ پیش کریں گے کہ ان کے ساز و سامان کا کیا ہوا۔ پچھلے ہفتے سوپکو نے وی او اے کی افغان سروس کو بتایا تھا کہ وہ ان رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ طالبان حکام بین الااقوامی مارکیٹ میں یہ اسلحہ فروخت کررہے ہیں۔
طالبان کا ایک لاکھ دس ہزار افراد پر مشتمل فوج بنانے کا اعلان کردہ ہدف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب انھیں افغانستان کا کنڑول حاصل کیے چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔اس کے بعد کے مہینوں میں طالبان نے افغانستان کو کئی طریقوں سے تبدیل کر دیا ہے، جس میں اس کیسرکاری نام کی تبدیلی بھی شامل ہے۔
ان تبدیلیوں کو اب تک زیادہ تر ان طریقوں کی واپسی کے طور پر دیکھا جا رہاہے جو 90 کی دہائی میں، جب اس کی بنیاد رکھی گئی تھی، اس گروپ نے اپنائے تھے۔ یہ زیادہ تر ایک جابرانہ حکومت کے طور پر رپورٹ ہوتے ہیں جو اپنے ہی لوگوں اور بقیہ دنیا سے متصادم ہیں، لیکن چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس جنگ زدہ ملک میں اہم کامیابی ملی ہے۔



