لندن، 25فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرائن نے اٹھارہ سے ساٹھ برس کی عمر کے مردوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صدر وولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے یوکرائن کو اپنے دفاع کے لیے تن تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔یوکرائن کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے جمعرات کے روز روس کی جانب سے حملے کے تناظر میں لڑنے کے مقصد سے ملک کی آبادی کو ایک ساتھ جمع کرنے کے لیے ایک فرمان پر دستخط کیے۔
اس حوالے سے ایوان صدر کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیاکہ ریاست کے دفاع کو یقینی بنانے، لڑائی اور نقل و حرکت کی تیاری کو یقینی بنانے کے مقصد سے آئندہ 90 دنوں میں بھرتی کے لیے افراد کو طلب کیا جائے گا۔
اس کے بعد زیلنسکی نے نصف شب کے بعد قوم کے نام اپنے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنی ریاست کے دفاع کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے کون تیار ہے؟
مجھے تو کوئی نظر نہیں آ رہا ہے۔ کون ہے جو یوکرائن کو نیٹو کی رکنیت کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہے؟ ہر کوئی تو خوفزدہ ہے۔یوکرائنی صدر نے روس کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب روس اور مغرب کے درمیان ایک نیا آہنی پرد ہ گر چکا ہے۔
یوکرائن کے سرحدی محافظ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس صورت حال میں 18 سے 60 برس کی عمر کے مردوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
اس بیان کے مطابق یہ پابندی یوکرائن میں مارشل لا کی نفاذ کی مدت تک جاری رہے گی۔یوکرائن کے صدر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ روس کے حملے کے بعد سے فوجی اہلکاروں سمیت اب تک مجموعی طور پر 137 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ویڈیو خطاب میں متأثرین کو ہیرو قرار دیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس کے اس دعوے کے برخلاف کہ وہ صرف فوجی اہداف پر حملہ کر رہا ہے، سویلین مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔



