اخبار نویس کی آپ بیتی: ہمیں کہا گیا دو گھنٹے میں نکل جائیں ورنہ آپ روس میں ہوں گے
کیف ؍ لندن ، 25فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صبح سویرے پانچ بجے کا وقت ہو گا کہ فون بجنے لگے، واٹس ایپ، سگنل اور فیس بک پر ایسے پیغامات کا سیلاب آ گیا کہ ہم نے کیف میں دھماکہ سنا ہے۔ ماریوپول میں بھی ایسی آوازیں سنی گئی ہیں یا کراماٹوسک میں بمباری ہوئی ہے اور ایسی اطلاعات کا تانتا بندھ گیا۔
کچھ وقت کے بعد ہی سلیوینسک میں اپنے ہوٹل میں بھی ہمیں دھماکے سنائی دے رہے تھے۔ عسکری اعتبار سے اہم مقام سے صرف 20 کلو میٹر دور ایک خاموش علاقے میں ہم اس صورتِ حال کے لیے پہلے سے تیار تھے بلکہ پہلے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی تیاری شروع کرچکے تھے۔
اگلے ہی گھنٹے ہماری ترجمان نے ہمیں بتایا کہ اب اس کا ہمارے ساتھ مزید کام کرنا خطرے سے خالی نہیں اور اسی طرح کئی ڈرائیورز نے بھی یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ ان بحرانی حالات میں اپنے اہلِ خانہ سے دور جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
صبح آٹھ بجے تک سڑکوں پر لوگ ہی لوگ تھے۔ سودا سلف اور دواؤں کے اسٹورز پر بھیڑ لگ چکی تھی اور اے ٹی ایمز کے سامنے لمبی قطاریں نظر آئیں۔
وہاں ایک قدرے نو عمر ماں ایسی بھی تھی جو کچھ دیر کے لیے بمباری تھمنے کے بعد دوردراز گاؤں میں اپنے شوہر اور بیٹی کو چھوڑ کر صبح سویرے نکلی تھی اور 30 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے صرف نقد رقم نکالنے شہر کے ایک اے ٹی ایم کے باہر اپنی باری کے انتظار میں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم اپنی تیاری کر رہے ہیں لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ کچھ نہیں ہوگا۔جو کچھ ہورہا تھا اس نے شاید چند عالمی رہنماؤں کو حیرت زدہ نہ کیا ہو لیکن پورا یوکرین شدید صدمے کی گرفت میں تھا۔
صبح سویرے بمباری کے بعد روس کی فوجیں مختلف سرحدوں سے یوکرین میں داخل ہونا شروع ہوچکی تھیں۔دوپہر تک ہم یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف پہنچ چکے تھے جو روس کی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے۔ عام طور پر یہ علاقہ پرسکون ہی رہتا ہے۔
یہاں گنے چنے ہوٹل ہیں ان میں سے ایک کھلا ہوا تھا جس کا ہر کمرہ بک ہو چکا تھا۔ زیادہ تر کاروبار بند تھے۔اب سوال تھا کہ ہم کہاں جائیں؟ ہم نے اپنے دوستوں اور رفقائے کار سے رابطے کیے، سوشل میڈیا پر تلاش شروع کی اور اسی اثنا میں ہماری ملاقات انٹن سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کینسر کے معالج ہیں۔
ان کے ایک بھائی شہر سے کچھ گھنٹے کے فاصلے پر سفر کررہے ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ روسی فوج راستے میں ہے۔ ان حالات میں کیف کا سفر کرنا بہت اچھا انتخاب نہیں تھا کیوں کہ صبح ہی سے بمباری کی اطلاعات آرہی تھیں اور شام تک وہاں براہِ راست تصادم متوقع تھا۔ لیکن جہاں تک ہم سمجھ پائے تھے کیف ہی وہ مقام تھا جو فوری طور پر روس کی فوج کے ہدف پر نہیں تھا۔
صبح سے روسی ٹینک یوکرین میں داخل ہونے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش میں تھیں لیکن ہم نے پیش قدمی کرتے روسی فوجیوں کی ایسی کوئی تصویر سوشل میڈیا پر نہیں دیکھی تھی۔



