بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب اور ایران مذاکرات معطل ہونے کا نتیجہ کیا ہوگا؟

لندن،17مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران نے علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ ہونے والی بات چیت معطل کر دی ہے۔ ایران کے اعلی سیکیورٹی ادارے، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل یا ایس این ایس سی سے ملحق ا یک ویب سائٹ نے بتایا کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے مذاکرات عارضی طور پر معطل کردیے ہیں۔ اس بات چیت کا پانچواں دور اس ہفتے ہو نے والا تھا۔

ہر چند کہ بات چیت معطل کرنے کا کوئی سبب نہیں بتایا گیا ہے، لیکن یہ اعلان سعودی عرب میں ایک ہی دن میں 81 افراد کو سزائے موت دیے جانے کے بعدسامنے آیا ہے، جن میں اطلاعات کے مطابق لگ بھگ 41 شیعہ مسلمان بھی شامل تھے۔

ایران نے اتنے زیادہ لوگوں کو سعودی عرب میں سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے ان سزاؤں کو بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جب کہ سعودی عرب نے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کا تحفظ اپنے قوانین کے ذریعے کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ خطے کے دونوں بڑے حریف ملکوں کے درمیان جو بات چیت ہو رہی تھی اس میں پیش رفت بھی ہوئی اور خطے کے معاملات پر ان دونوں کی رقابت کے سبب جو اثرات تھے ان کی شدت میں کمی بھی آئی، خاص طور پر یمن کی صورت حال کے حوالے سے۔

لیکن ظاہر ہے کہ اتنے عرصے سے الجھے ہوئے معاملات اتنی جلدی تو نہیں سلجھ سکتے۔ڈاکٹر حسنات کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اوّل یہ کہ ایران نے لفظ عارضی استعمال کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ بات چیت ٹوٹی نہیں ہے، پھر شروع ہو سکتی ہے۔

دوسرا یہ کہ ایران نے اسے فرقہ وار انہ مسئلہ بنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی حکمت عملی یہی ہو گی کہ اسے حقوق انسانی کا ہی مسئلہ بنایا جائے۔کیونکہ ساری دنیا ہی میں سعودی عرب کی اس کارروائی پر نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ اس لیے ایران اکیلے مذمت کرنے والے ملک کی حیثیت سے سامنے نہیں آئے گا اور سعودی رد عمل صرف اسی پر مرتکز نہیں ہو گا۔ اور آئندہ بات چیت کے دروازے کھلے رہیں گے۔

ایران پر بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں تو وہ کس طرح سعودی عرب یا کسی پر بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے لیے نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا تھا کہ اوّل تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایران میں بہ یک وقت اتنے لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہو۔

جیسے سعودی عرب میں دی گئی ہے دوسرا جب سے ویانا میں ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات شروع ہوئے ہیں، ایران میں بقول ان کے حقوق انسانی کی ایسی خلاف ورزی کا کوئی بڑا واقعہ سننے میں نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button