بین الاقوامی خبریں

آئین کی وہ شقیں جو اس وقت پاکستان میں موضوعِ بحث ہیں

اسلام آباد،4اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بجائے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے قرار داد کو خلافِ آئین قرار دے کر مسترد کرنے اور وزیر اعظم کی تجویز پر اسمبلی کی تحلیل سے پاکستان میں ایک نیا آئینی بحران پیدا ہوگیا۔جس کے بعد سے ملک میں آئین کے بنیادی آرٹیکلز میں شامل آرٹیکل پانچ ،چھ اور دستور میں بیان کردہ اسپیکر، صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات پر قانونی و آئینی بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔

اتوار کو جب تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے آرٹیکل پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بیرونی سازش کے تحت وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لارہی ہے جو آرٹیکل پانچ کے تحت ریاستِ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کی تقریر کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے عدمِ اعتماد کی تحریک کو خلافِ آئین قرار دے کر مسترد کردیا جس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی۔وزیرِ اعظم کی تجویز پر صدرِ مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اس اقدام سے پیدا ہونے والے آئینی بحران کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے آئین کے آرٹیکل 95 کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پر قرار داد پیش ہونے کے سات دن کے اندر اندر رائے شماری کرنا ضروری ہے۔

آئین کے اس آرٹیکل میں اسپیکر کے تحریکِ عدم اعتماد کو مسترد کرنے کے اختیار کا ذکر نہیں ہے۔اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 62 دو کا ذکر بھی کیا جارہا ہے جس کے تحت اسمبلی میں ہونے والی کارروائی ’کسی عدالت کے اختیارِ سماعت کے تابع‘ نہیں ہوگی۔

آئین کے مطابق اگر وزیرِ اعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع ہوچکی ہو تو وہ اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز صدر کو نہیں بھیج سکتے۔تاہم موجودہ صورت حال میں تحریکِ عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد وزیرِ اعظم کی تجویز پر صدر اسمبلی تحلیل کرچکے ہیں۔

اس بارے میں آئین کے آرٹیکل 48 کی شق دو اور چار کا حوالہ دیا جارہا ہے جس کے مطابق صدر کے کسی اقدام کی تفتیش کوئی عدالت،ٹریبونل یا مجاز ادارہ نہیں کرسکتا۔تاہم ان سوالات کی آئینی تشریح کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا انتظار ہے۔

اس آئینی بحران میں قانونی اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث آنے والے آرٹیکل پانچ، چھ، آرٹیکل 224، آرٹیکل 58 سمیت دیگر آئینی پہلوؤں پر بھی بات ہورہی ہے جس میں خاص طور پر سنگین غداری سے متعلق آئین کا آرٹیکل چھ سرفہرست ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button