بین الاقوامی خبریں

ترکی نارڈک ملکوں کی نیٹو میں شمولیت سے فکرمند کیوں ہے؟

استنبول، 18 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سویڈن اور فن لینڈ مغربی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ترک صدر نے ان کی شمولیت کو روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ترکی ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت سے فکر مند کیوں ہے؟ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ نارڈک ممالک کرد انتہا پسندوں کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اس بنیاد پر ان کی مغربی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی مخالفت کریں گے۔ ان کے مطابق ان ریاستوں کی شمولیت سے ان کے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل ڑینس اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کا نیٹو میں شامل ہونے کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔نیٹو کی رکن ریاستوں کی تعداد تیس ہے اور سبھی کی حمایت سے ہی کسی نئے رکن کی اتحاد میں شمولیت ممکن ہو سکتی ہے۔

اس تناظر میں ترکی کی حمایت خاصی اہم ہے۔ترکی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں دوسری بڑی فوج کا حامل ملک ہے اور یہ ملک اتحاد میں توسیع کا ہمیشہ حامی رہا ہے۔ انقرہ کے مطابق نیٹو کی اوپن پالیسی یقینی طور پر یورپی سلامتی کی مزید تقویت کا باعث بن سکتی ہے۔ ترکی نے یوکرین اور جورجیا کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت کی تھی۔ ترک صدر ایردوآن کا فن لینڈ اور سویڈن کی شمولیت پر یہ اعتراض ہے کہ یہ ممالک کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سویڈن زیادہ بڑا حامی ہے اور فن لینڈ کی حمایت سویڈن جیسی نہیں ہے۔

اسی طرح ایردوآن حکومت کا خیال ہے کہ سویڈن کے ساتھ فن لینڈ امریکا مقیم مبلغ فتح اللہ گْولن کے حامیوں اور انتہا پسند بائیں بازو کی سیاسی جماعت DHKP-C کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ بہت سارے جلاوطن کرد کئی دہائیوں سے اس وقت سویڈن میں مقیم ہیں۔ اب فتح اللہ گولن کے حامیوں کو بھی سویڈن میں پناہ ملنی شروع ہو گئی ہے۔ترک میڈیا کے مطابق سویڈن اور فن لینڈ نے ایسے تینتیس افراد کو انقرہ حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا، جو ترکی میں مطلوب افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ترکی کو یورپی یونین سے اسلحے کی کم فراہمی پر بھی ناراضی لاحق ہے۔ ایردوان کے مطابق وہ یونان کو نیٹو میں شمولیت پر رضامندی جیسی غلطی دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button