سیاسی و مذہبی مضامین

ؕمرد ،عورت کی کامیابی ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم

شادی شدہ عورت کامیاب ہوتی ہے

✍️حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئ

ہر وہ شخص جو معاشی و معاشرتی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دوسرے پر سبقت لے جائے کامیاب کہلاتا ہے۔اس میں دورائے نہیں کہ کامیابی کا تعلق شہرت اور دولت سے بالواسطہ یا بلا واسطہ ہوتا ہے جب کوئی انسان کا میابی کی منزل پاتا ہے تو اس کے پیچھے ایک پورا طریقہ کارفرما ہوتا ہےہم بات کررہے ہیں ایک مرد وعورت کی کامیابی کی ۔مشہور مقولہ ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہےمگر ہم نے کبھی سوچا کہ ایک عورت کی کامیابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوتا ہے؟اور اگر وہ عورت کسی کی بیوی بھی ہوتو اس کی کامیابی کا ذمہ دار کون ہوتا ہے؟

ویسے تو ہر شادی شدہ عورت کامیاب ہوتی ہےاسکی کامیابی کا ثبوت اس کااپنے ہاتھ سے بنایا ہوا گھر گھونسلہ اور اس میں چہچہاتے بچے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم میں سے اکثر تعداد ان عورتوں کی بھی ہے جو گھر کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اور کسی نہ کسی شعبے میں بھی اپنے کو ہر طرح سے منواتی ہیں اور کامیاب کہلاتی ہیں ان خواتین کی قابلیت اور اہلیت اپنی جگہ مگر ان کے اعتماد اور پروقار شخصیت صرف اورصرف ان کے شریک حیات کی دین ہوتی ہے۔

کتنی ہی خواتین ایسی ہیں جو اپنی ازدواجی زندگی میں توازن نہیں رکھ پاتی مگر پھر بھی کامیاب ہوتی ہیں ، پر ان کی کامیابی اور ان خواتین کی کامیابی جن کے شریک حیات ان کے قدم سے ہم قدم بنتے ہیں یکسر مختلف ہوتی ہےشوہر کا ساتھ عورت کو نڈر اور بہادر بنا تا ہے جب کوئی عورت اپنے شوہر کو اپنے ہم قدم پاتی ہے تو اڑتی پتنگ کی طرح لہراتی پھرتی ہے کیونکہ اس کو علم ہوتا ہے کہ اس کی ڈور انتہائی محفوظ اور پاک ہاتھوں میں ہے۔وہ عورت جو کسی طرح کے ازدواجی رکاوٹ کا سامنا کرتے ہوئے بڑھتی ہے اس قدر پر اعتماد اور مکمل نہیں ہوتی اس عورت کی نسبت جس کو اپنے شوہر کا ساتھ حاصل ہو۔

اس کی اعتماد کے ساتھ ساتھ اس کے ترقی بھی تیز رفتار ہوتی ہے کیونکہ اس کا شوہر محافظ ہونے کے ناطے اور کی راہوں سے دشواریاں ہٹاتا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں اس پر انگلی اٹھنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور وہ اپنی قابلیت کو صحیح سمت اور بروقت بروے کا ر لاتی ہے۔دوسری جانب جب شوہر ہی بیوی کا ساتھ نہ دیتا ہوتو اس کو معاشرے اور معاشرے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے اور اس کی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں ۔ خوش نصیب ہوتی ہیں وہ خواتین جن کو ایسا جیون ساتھی نصیب ہو ۔

کیونکہ جب عورت خودکو محفوظ اورمکمل محسوس کرتی ہے تو معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرتی ہےوہ اپنی کاوشوں کوملکی اور معاشرتی تعمیر میں استعمال کرتی ہے نہ کہ ایک بے حس معاشرے کے جن کے الزامات پر خود کوسچ ثابت کر نے میں ضائع کرتی رہے۔ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ایک بیمار اورمحکوم ذہن کبھی بھی صحت مند سوچ کو پروان نہیں چڑھا سکتا۔ جہاں رشتوں میں عدم اعتماد ہو اور ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو وہاں ایک ایسی سوچ کی رمق کیسے جنم لے سکتی ہے جو تندرست بھی ہو اور معاشرے کی تعمیر کا باعث بھی ہے۔

یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رشتوں کو مضبوط کریں۔ایک دوسرے کی عزت نفس کو اولیت دیں ۔میاں بیوی ایک دوسرے کی اہمیت کو سمجھیں ، ایک دوسرےکی عزت کا پاس کریں اور احترام کو لازم کرلیں ایک دوسرے کا احترام ہی وہ واحد جز ہے جو ہر خواہش کوپروان چڑھانے میں مددگار ہوگا اور محبت کی بنیاد بنے گا۔

جس خاندان میں والدین ایک دوسرے کا لحاظ اور ادب روا رکھتے ہیں ،ان کی اولاد بلکہ نسلیں اس روایت کو قائم رکھتی ہیں۔اور جن خاندان میں عورتوں کی عزت کو اولین اہمیت اور ترجیح حاصل ہوتی ہیں ان ہی خاندانوں سے بڑے بڑے گوہر نایاب پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ان کی پرورش ایک سازگار ماحول میں کی گئی ہوتی ہے جو ان کی شخصیت کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ان کی سوچ اور ملی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ جس طرح ہمارا معاشرہ کسی مرد کی کامیابی کے پیچھے کسی عورت کے ہونے کو مشروط رکھتا ہے۔

اسی طرح ایک شادی شدہ عورت کی کامیابی اس کے شوہر کی عطا کردہ سکون ، اعتماد اور رواداری سے مشروط ہوتی ہےاس کا شوہر ہی ہوتا ہے جو اس کی مضبوط اور پروقار شخصیت کو استوار کرتا ہےاس کو تحفظ دیتا ہے ۔اس کی ترقی اور کامیابی کو سراہتا ہے یہ اس لئے کہ صرف اس کے شوہر نامدار کا ساتھ ہوتا ہے۔جس طرح یہ مثل مشہور ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی حقیقت ہےکہ ایک بیوی کی کامیابی کے پیچھے صرف اور صرف اسکے شوہر کا ساتھ ہوتا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button