لندن ،11ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ستر برس تک دنیا کے بیشتر ممالک پر حکمرانی کرنے والی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر کوہ نور ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے، صارفین کی جانب سے برطانیہ سے کوہ نور ہیرا بھارت کو واپس لوٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو ملکہ برطانیہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق کوہ نور سمیت متعدد قیمتی اشیاایسی ہیں جنہیں برطانیہ نے نوآبادیاتی دور میں اپنے زیر تسلط ممالک سے چھینی یا لوٹی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انگریزوں نے 1799 میں ٹیپو سلطان کیخلاف جنگ میں فتح کے بعد ان کے جسم سے انگوٹھی اتار لی تھی جسے ایک نیلامی کے دوران 1 لاکھ 45 ہزار پاؤنڈز میں نامعلوم شخص کو نیلام کیا گیا۔مؤرخین کے مطابق 1803 میں لارڈ ایلگن نے یونان سے ہارتھینن کی بوسیدہ دیواروں سے سنگ مرمر کو نکال کر لندن منتقل کروا دیا تھا جو اب بھی برطانوی عجائب گھر(برٹش میوزیم) میں موجود ہے اور 1925 سے یونان اپنی قیمتی اشیا کی واپسی کا مطالبہ کررہا ہے جو آج تک پورا نہ ہوسکا۔دیگر اشیا کی برطانوی سرکار نے 1905 میں افریقہ سے برآمد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ہیرے ’دی گریٹ اسٹار آف آفریقہ‘ کو بھی لوٹ لیا تھا جو اس وقت ملکہ برطانیہ کے تخت میں جڑا ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیرے کا وزن 530 قیراط ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 40 کروڑ امریکی ڈالرز لگائی ہے۔تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افریقہ کے عظیم ستارے نامی ہیرے کو ایڈورڈ ہفتم کو بطور تحفہ پیش کیا گیا تھا تاہم نا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہیرا چوری کیا۔مصری حکام اور ماہرین آثار قدیمہ روزیٹا پتھر کو واپس مصر لانا چاہتے ہیں لیکن دیگر نوادرات اور قیمتی اشیاکی اس کا مطالبہ بھی پورا نہ ہوسکا۔196 سال قبل مسیح کے پتھر سے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ اس پتھر کو برطانوی حکومت نے سن1800 میں فرانس کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے بعد چوری کیا تھا۔
واضح رہے کہ روزیٹا پتھر بھی ایلگن ماربلز کی طرح اس وقت برطانیہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق روزیٹا پتھر دریائے نیل کے ایک کنارے روزیٹا کے مقام پر 1799 میں فرانسیسی فوجیوں کو اتفاقاً ملا تھا، جس میں ایک ہی عبارت تین زبانوں یعنی مصری تصویری خط میں، مصری عوامی خط اور یونانی خط میں کندہ ہے۔
جنوبی ایشیا میں غیر متنازع رہنے کے لیے ملکہ نے اچھی پی آر کا استعمال کیا
لندن ،11ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جب ملکہ الزبتھ دوم نے 1952 میں تخت سنبھالا تو تاجِ برطانیہ سے ایک ہیرا ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں پانچ برس قبل ہی الگ ہوا تھا۔ وہ ایسے وقت میں ملکہ بنیں جب برِصغیر تقسیم ہند کے بعد ہونے والی خون ریزی کے اثرات سے باہر نہیں نکل پایا تھا۔ملکہ برطانیہ تقسیمِ ہند کے بعد بھارت اور پاکستان کے دوروں پر آئیں اور برِ صغیر پر برطانوی راج کے دوران تلخ یادوں کے باوجود ملکہ کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔ملکہ کے جنوبی ایشیا کے دوروں کے عینی شاہدین کا کہناہے کہ ملکہ نے گرمجوشی اور لوگوں میں گھل مل جانے کے باعث برِ صغیر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور ماضی کی تلخ یادوں کے باوجود وہ آخری وقت تک غیر متنازع رہیں۔
ٹفٹس یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر عائشہ جلال نے بتایا کہ یہ قابلِ ذکر ہے کہ ملکہ جنوبی ایشیا میں نوآبادیاتی نظام کی مخالف قوم پرستی کی گہری تاریخ کے باوجود متنازع شخصیت نہیں تھیں۔ممتاز مصورہ اور ماہرِ تعلیم سلیمہ ہاشمی یاد کرتی ہیں کہ کس طرح ایک اسکول کی لڑکی کے طور پر لاہور میں ملکہ کے قافلے کو دیکھ کر وہ ہاتھ ہلا رہی تھیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب 1961 میں ملکہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔سلیمہ ہاشمی نے بتایا کہ برسوں بعد لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل کے طور پر 1997 میں انہوں نے ملکہ کے دوسرے اور آخری دورۂ پاکستان کے موقعے پر میزبانی کی۔انہوں نے کہا کہ وہ ملکہ کی اس صلاحیت سے متاثر ہوئیں کہ وہ بہت آسانی سے لوگوں میں گھل مل جایا کرتی تھیں اور دوسروں کو اپنی موجودگی سے اچھا احساس دلاتی تھیں۔سلیمہ ہاشمی نے بتایا کہ کسی ایسی شخصیت کے طور پر جسے سلطنت کا تصور وراثت میں ملا، ملکہ برطانیہ نے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کو قابل عمل بنانے کی بہت کوشش کی۔
عائشہ جلال کہتی ہیں کہ امریکہ کے پاور بروکر کے طور پر ابھرنے کے باوجود شاہی خاندان جنوبی ایشیا کے بارے میں متوازن نظریہ رکھنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ جنوبی ایشیا میں ان کا اثرورسوخ تقسیمِ ہند کے بعد کم ہوا، لیکن انہوں نے جنوبی ایشیائی ملکوں کے ساتھ اچھے روابط رکھے۔ملکہ نے اپنے 70 سالہ دورِ حکمرانی میں تین مرتبہ بھارت اور دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔عائشہ جلال کہتی ہیں کہ ملکہ ایک آئیکون تھیں جنہیں دنیا میں کچھ اچھا کرنے یا اچھا کرنے کی کوشش کرنے کے قابل سمجھا جاتا تھا۔
ملکہ الزبتھ دوم کا انتقال، شاہی خاندان کی رنجشیں ختم ہو جائیں گی؟
لندن،11ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اب شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل اور شاہی خاندان کے درمیان رنجشیں ختم ہونے کے امکانات ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس جوڑے کی سنیچر کو ونڈزر کیسل میں شہزادہ ہیری کے بھائی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ 2020 کے اوائل میں امریکہ میں منتقل ہونے کے بعد وہ پہلی مرتبہ مشترکہ طور پر عوام کے سامنے آئے۔سب نے سوگوار سیاہ لباس زیب تن کر رکھے تھے۔ انہوں نے ایک ساتھ محل کے باہر عوام کی طرف سے رکھے گئے پھولوں کو دیکھا۔ دونوں جوڑوں کا کیمروں کے سامنے ایک ساتھ باہر نکلنا بری طرح سے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو ٹھیک کرنے میں پیشرفت کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
دو دن پہلے ایسا نہیں تھا بلکہ ایک بالکل مختلف کہانی تھی۔ 37 سالہ ہیری پْرنم آنکھوں سے اکیلے گاڑی میں بالمورل سٹیٹ پہنچے جہاں ملکہ انتقال کر گئی تھیں۔شاہی ماہر رچرڈ فٹز ویلیمز نے کہا کہ جمعرات کی الگ الگ آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں بھائی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہیری اور میگھن نے حالیہ مہینوں میں شاہی خاندان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ مستقبل کے لیے گیند ان کے کورٹ میں ہے اور یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کھیلنا چاہتے ہیں۔ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شاہی خاندان کے درمیان مفاہمت کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔
ہیری کے امریکی ٹی وی شو کی میزبان اوپرا ونفری کے سامنے یہ دعویٰ کرنے کے باوجود کہ ان کے بھائی اور والد بادشاہت میں ’پھنسے‘ ہوئے ہیں، چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ کے طور پر اپنی پہلی تقریر میں اپنے خود ساختہ جلاوطن بیٹے کے ساتھ صلح کرنے کے لیے تیار نظر آئے۔جنوری 2020 میں ہیری اور میگھن نے اچانک شاہی خاندان سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ اٹلانٹک کے اس پار نئے مستقبل کا آغاز کر رہے ہیں۔اس علیحدگی کے بعد شاہی جوڑا اعزازی فوجی تقرریوں اور شاہی سرپرستی سے بھی دست بردار ہوگیا تھا۔شاہی خاندان سے ایک سال قبل علیحدگی کے بعد اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں میگھن مارکل نے کہا کہ انہیں شاہی خاندان کی جانب سے تحفظ نہیں ملا، شاہی خاندان کو یہاں تک اعتراض تھا کہ ہمارے بچے کی رنگت کالی ہوگی۔
بچے کی پیدائش کے بعد شاہی خاندان کی تصویر کھنچوانے کے بارے میں پوچھا تک نہیں گیا۔فٹز ویلیمز نے کہا کہ ’ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس نوجوانوں میں مقبول ہیں، لیکن وہ بادشاہت پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے بڑا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔سنیچر کو ولیم اور کیٹ کے ساتھ مشترکہ آمد خاندانی تعلقات کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کرسکتی ہے۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبے میں 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔ریاستی طور پر آخری رسومات 19 تاریخ کو دن گیارہ بجے ہوں گی جس کے دوران شرکا ونڈزر کاسل تک ایک جلوس کی شکل میں پیدل جائیں گے۔ ملکہ کو ونڈزر میں کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
برطانوی ملکہ الزبتھ کو عزیزوں کے ساتھ دفن کیا جائے گا
لندن ،11ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 8 ستمبر کو فوت کرگئیں اور ان کی آخری رسومات دس دن بعد ادا کی جائیں گی جس سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم کو 18 ستمبر کو سپرد خاک کیا جائے گا اور آخری آرام گاہ سے متعلق فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ کن عزیز رشتہ داروں کے ساتھ دفنایا جائے گا۔ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کا آغاز 18 ستمبر کو صبح گیارہ بجے بگ بینگ کی گھنٹی بجاکر کیا جائے گا، رپورٹ کے مطابق آنجہانی ملکہ کو شاہ جارج ششم کی لابی میں دفنایا جائے گا۔ملکہ برطانیہ کے والد جارج ششم کی لابی لندن سے 36 کلومیٹر کی دوری پر یارکشائر کے دیہی علاقے میں واقع ہے۔
اس لابی میں سابق بادشاہ برطانیہ اور ملکہ الزتبھ کے والد جارج ششم کی قبر بھی ہے۔ملکہ الزبتھ کو ان کے والد، والدہ، بہن اور شوہر کے قریب ہی دفنایا جائے گا۔ ملکہ برطانیہ کے والد کا انتقال 1952 میں ہوا تھا جب کہ والدہ اور بہن 2002 میں راہی عدم سدھار گئی تھیں اور ان کے شوہر شہزادہ فلپ گزشتہ برس داغ مفارقت دے گئے تھے۔خیال رہے کہ 97 سالہ ملکہ الزبتھ کی والدہ نے بھی طویل عمر پائی تھی ان کا انتقال 101 سال کی عمر میں ہوا تھا۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ فروری 1952 میں لی گئی ایک تصویر میں ملکہ الزبتھ اپنے والد، والدہ، بہن اور شوہر کے ساتھ ایک تصویر میں کھڑی ہیں اور اب سب کا انتقال ہوچکا ہے اور ملکہ تدفن کے بعد تصویر میں موجود شاہی افراد کی قبریں بھی قریب قریب ہوں گی۔



