ریاض ،28ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کو وزیرِ دفاع سے ترقی دے کر ملک کا نیا وزیرِاعظم مقرر کردیا ہے۔سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں اداے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کو کابینہ اجلاس کی صدارت کے بعد کابینہ میں تبدیلی کا شاہی فرمان جاری کیا۔شاہی فرمان کے مطابق محمد بن سلمان سعودی عرب کے وزیرِاعظم ہوں گے جب کہ وزیرِ دفاع کا قلمدان شاہ سلمان کے دوسرے بیٹے شہزادہ خالد بن سلمان کو دے دیا گیا ہے جب کہ شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان وزیرِ توانائی ہوں گے۔
شہزادہ خالد اور شہزادہ عبدالعزیز ملک کے نئے وزیرِ اعظم محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ شہزادہ خالد اس سے قبل نائب وزیرِدفاع کے فرائض انجام دے رہے تھے۔سعودی شاہی فرمان میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اب بھی کابینہ اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔شاہی فرمان کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود وزیر خارجہ، محمد بن عبداللہ بن عبدالعزیز ال جادان وزیرِ خزانہ، انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح وزیر سرمایہ کاری کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ایک سعودی عہدیدار نے بتایا کہ محمد بن سلمان کا بطورِ وزیرِ اعظم نیا کردار شاہ سلمان کے سابق وفد کے فرائض کے مطابق ہے، جس میں غیر ملکی دوروں میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنا اور سعودی عرب کی طرف سے منعقدہ اجلاسوں کی صدارت کرنا شامل ہے۔
سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ولی عہد،شاہ سلمان کے حکم کی بنیاد پر پہلے ہی روزانہ کی بنیاد پر ریاست کے اہم انتظامی اداروں کی نگرانی کرتے ہیں اور بطورِ وزیرِ اعظم ان کا نیا کردار اسی تناظر میں ہے۔ ایس پی اے کے مطابق محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ریاست نے فوجی صنعت میں خود کفالت کو دو فی صد سے بڑھا کر 15 فی صد تک کردیا ہے اور نئے وزیر دفاع کے دور میں یہ 50 فی صد تک پہنچنے کا منصوبہ ہے۔بروکلین کی وفاقی عدالت میں دائر کی گئی ایک شکایت کے مطابق سعودی شخص نے جن ناقدین کو ہراساں کیا ان میں زیادہ تر ایسی خواتین ہیں جو امریکا اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔
خیال رہے کہ 86 سالہ سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز 2015 میں ملک کے حکمران بنے تھے۔ مگر گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران وہ مختلف بیماریوں کے باعث کئی مرتبہ اسپتال میں داخل ہوچکے ہیں۔سال 2017 میں اقتدار سنبھالنے والے ولی عہد محمد بن سلمان کئی اصلاحات متعارف کراچکے ہیں جن میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا اور علما کے اختیارات کو روکنا شامل ہے۔
محمد بن سلمان بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک کی معیشت کا انحصار تیل کے بجائے دیگر ذرائع پر کرنے کے خواہش مند ہیں۔ تاہم ان کی اصلاحات سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور کئی سرگرم کارکنوں، شاہی خاندان کے افراد، خواتین کے حقوق کی کارکنوں اور تاجروں کو جیل بھیجا گیا ہے۔
سعودی عرب میں خواتین کی پہلی سائیکلنگ لیگ کا آغاز
ریاض،28ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں سائیکلنگ فیڈریشن نے فیڈریشن فار ویمن لیگ کے اپنے پہلے ایڈیشن کا آغاز کیا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے،جو فیڈریشن کی جانب سے خواتین کے کھیلوں کے سپورٹ پروگرام کے فریم ورک کے اندر مقرر کردہ ٹائم پلان کے اندر آتا ہے۔ویمن لیگ کا آغاز 14 اکتوبر سے ہوگا اور مقابلوں میں 7 لیگ ریس، کنگڈم چمپئن کی ریس (انفرادئی) گھڑی کیخلاف اور کنگڈم کی چمپئن ریس (جنرل سنگلز) شامل ہوں گی۔
ریسوں کا کل فاصلہ 625 کلومیٹر ہوگا جو مملکت کے 7 مختلف علاقوں میں منعقد کی جائیں گی۔اپنی طرف سے سعودی سائیکلنگ فیڈریشن میں خواتین کی کمیٹی کی سربراہ شہزادی مشعل بنت فیصل نے کہا کہ یہ اعلان خواتین کے سائیکلنگ کے سفرکا ایک اہم لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت میں پہلی باضابطہ لیگ کا آغاز خواتین کو کھیلوں میں با اختیار بنانے کی مساعی میں شامل ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ ٹیکنیکل کمیٹی نے ٹائم ٹیبل کے لیے تمام قواعد و ضوابط کی تیاری مکمل کر لی ہے۔سعودی سائیکلنگ ٹریک میں اس ورڑن کی اہمیت کے پیش نظر کمیٹیوں کی جانب سے ان پر عمل درآمد کرنے اور ان کی پابندی کرنے کی خواہش پر زور دیا۔ انہوں نے وزیر کھیل اور کھیل فیڈریشن سعودی اولمپک کمیٹی صدرشہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کی لامحدود حمایت پران کا شکریہ ادا کیا۔
بحری ٹاسک فورس نے ساڑھے 8 کروڑ ڈالرمالیت کی ہیروئن پکڑلی
ریاض،28ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی بحریہ کاکہنا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں ایک ٹیم نے ماہی گیری کے ایک بحری جہاز سے ساڑھے8 کروڑڈالرمالیت کی ہیروئن (2،410 کلوگرام) ضبط کرلی ہے۔اس سال بین الاقوامی بحری افواج کی مشرقِ اوسط میں غیرقانونی منشیات برآمد کرنے کی یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (سی ایم ایف) میں شامل امریکی کوسٹ گارڈ کے سریع الحرکت یونٹ نے 27 ستمبر کوخلیج عمان میں بین الاقوامی پانیوں میں گشت کے دوران میں ماہی گیروں کے ایک بحری جہاز پر چھاپا مار کارروائی کی ہے۔
بین الاقوامی پانیوں سے گزرنے والے ماہی گیری کے جہاز پرایک اندازے کے مطابق 2,410 کلوگرام ہیروئن موجود تھی۔کمبائنڈ میری ٹائم فورسز 34 رکن ممالک پر مشتمل بحری فورس ہے اور وہ بحیرہ احمر، خلیج عدن، شمالی بحیرہ عرب، خلیج عمان، خلیج عرب اور بحر ہند میں اسلحہ اور منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کام کرتی ہے۔سعودی عرب کی شامی بحریہ اس وقت سی ایم ایف کے تحت کمبائنڈ ٹاسک فورس (سی ٹی ایف) 150 کی کمان کررہی ہے۔
امریکی بحریہ کی مرکزی کمان ،خطے میں موجود پانچیں بحری بیڑے اورسی ایم ایف کے کمانڈروائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ منشیات کی بھاری مقدار پر قبضہ ہمارے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکنے کے عزم کا مظہر ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مجھے سی ایم ایف، سعودی بحریہ کی قیادت میں سی ٹی ایف 150 ٹیم اور چارلس مولتھروپ کے عملہ کی شاندارکوششوں پر فخر ہے۔لیکن امریکی بحریہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ جہاز کہاں جارہا تھا یا کہاں سے آیا تھا۔
سی ایم ایف خطے میں اسلحے اور منشیات کی غیرقانونی تجارت کو روکنے کے لیے کام کررہی ہے۔قبل ازیں اس نے حالیہ مہینوں میں ایران یا اس کی پشت پناہی کے حامل گروہوں اور مسلح ملیشیاؤں کی بین الاقوامی پانیوں میں اسلحہ اور منشیات کی متعدد کھیپیں پکڑی ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں امریکی بحریہ نے عوامی سطح پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایک ایرانی جنگی جہاز نے بحیرہ احمر میں امریکہ کے بغیرکپتان دو بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا تھا۔ اس سے دو روز قبل ایران نے خلیج میں اسی طرح کے ایک اور جہاز کو ضبط کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ناکام رہا تھا۔



