چار برس قبل سعودی بچی کو قتل کرنے والی ملازمہ کو قصاصاً سزائے موت د ے دی گئی
قصاص میں قتل کرنے سے قبل تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ نوکرانی نے جان بوجھ کر، جارحانہ انداز میں، قتل کے ارادے سے نوال کو چھری کے وار کرکے قتل کیا تھا۔
ریاض، 3اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چار برس قبل بچی نوال قرنی کو اس کی ملازمہ نے بھیانک طریقے سے قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دو اکتوبر 2022 کو نوال قرنی کی قاتل ملازمہ فاطمۃ محمد اصفا کو بطور قصاص سزائے موت دے دی گئی۔ بچی نوال قرنی کی والدہ نے کہا میں نے آج 2 اکتوبر کو بیٹی کی قاتلہ کو سزا کے دن کے طور پر اپنی ڈائری میں درج کرلیا ہے۔ نوال کی والدہ نے کہا کہ 2 اکتوبر صبح نو بجے میری بیٹی کی قاتل ملازمہ سے قصاص لے لیا گیا ہے۔
قصاص میں قتل کرنے سے قبل تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ نوکرانی نے جان بوجھ کر، جارحانہ انداز میں، قتل کے ارادے سے نوال کو چھری کے وار کرکے قتل کیا تھا۔ نوال کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ سو رہی تھی۔ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی نوکرانی فاطمہ محمد اصفا نے اس کے جسم کے مختلف حصوں پر چھریوں کے وار کئے تھے۔
یہ تمام باتیں ثابت ہونے کے بعد عدالت نے نوکرانی کو قتل کی سزا سنائی تھی۔نوال کی والدہ نے بتایاکہ اللہ نے مجھے صبر کا بدلہ دے دیا۔ ایک بڑی تھکاوٹ کے بعد یہ راحت نصیب ہوئی ہے۔ میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے نوال کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے گا۔ مجھے، میری بیٹی نوال اور دوسرے بچوں کو جنت میں اکٹھا کردیں۔مزید تفصیلات بتاتے ہوئے نوال کی والدہ نے کہا کہ میں اس تمام عرصہ میں کبھی سکون میں نہیں آئی میں اس نوکرانی سے بدلے کی شدید منتظر تھی جس نے بڑے بھیانک انداز میں میری بیٹی نوال کو قتل کیا تھا۔
اس دوران میں مسلسل وزارت انصاف کے حکام اور ججوں سے ملتی رہی۔ ان سے قصاص کا مطالبہ کرتی رہی اور اپنی بیٹی کی قاتلہ کوجلد سزا ملنے کی بہت دعا بھی کرتی رہی۔ میری بیٹی نوال کے قتل کو 4 سال اور 3 ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ اس ساری مدت کے دوران میں کیس کی پیروی کرتی رہی اور 2 اکتوبر رات 9 بج کر 10 منٹ پر میرے سامنے تلوارکے ذریعہ نوکرانی سے قصاص لیا گیا، وزارت داخلہ کے حکم سے اسے بھی ایسے ہی مارا گیا جیسے اس نے میری بیٹی کو قتل کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا میں نے اپنی بیٹی کی موت کے بعد مشکل حالات میں زندگی گزاری ہے۔



