
کیف، 4اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کی فوج نے حال ہی میں روس کے صدر کی جانب سے غیر قانونی طور پر ضم کیے گئے چار یوکرینی علاقوں میں شامل شہر خیرسون میں پیش قدمی کی ہے۔انضمام کے اعلان کے بعد روس نے خیرسون میں اپنی فوج تعینات کر کے قبضہ مضبوط بنا لیا تھا، تاہم پیر کو یوکرین کی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے شہر کے کچھ حصے کا قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔روس کی وزارتِ دفاع نے بھی ایک بیان میں اعتراف کیا کہ یوکرینی افواج نے ٹینک یونٹس کی مدد سے ہمارے دفاعی نظام میں شگاف ڈالا ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر کی شب خطاب میں کہا تھا کہ یوکرین کی فوج تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور کئی علاقوں کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا ہے۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یوکرین کی افواج نے خیرسون میں کن کن علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا ہے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کی فوج نے کامیابی کے ساتھ کئی علاقوں کوآزاد کر لیا ہے جب کہ کئی مقامات پر گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔دوسری جانب روس کی وزارتِ دفاع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے ان علاقوں میں قائم کی گئی دفاعی لائن پر حملے کیے ہیں، تاہم جوابی حملوں میں یوکرین کی فوج کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ایک سینئر امریکی سیکیورٹی اہل کار نے پیر کو بتایا کہ روسی فورسز، یوکرینی فوج کو مغرب کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور یوکرینی فوج اب بھی اپنی پوزیشن پر ڈٹی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے چند روز قبل یوکرین کے چار علاقوں خیرسون، ژاپوریژیا، ڈونیٹسک اور لوہانسک میں ریفرنڈم کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ ان چار علاقے کے عوام نے روس میں ضم ہونے کے لیے ووٹ دیا ہے۔ اس حوالے سے جمعے کو ان چاروں علاقوں کو روس میں ضم کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط کر دیے گئے تھے۔لیکن ان چاروں علاقوں کی حد بندی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ دو علاقے ڈونیٹسک اور لوہانسک انہیں انتظامی سرحدوں کے ساتھ روس میں شامل ہو رہے ہیں جو 2014 میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرینی فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہونے سے پہلے موجود تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیرسون اور زاپوریڑیا میں سرحدی حد بندی کے لیے مقامی افراد سے بات چیت کا عمل جاری ہے کیوں کہ یہ علاقے نسبتاً غیرآباد ہیں۔روس کے اس اقدام پر امریکہ سمیت یورپی ملکوں نے مذمت کرتے ہوئے اس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔پیر کو روسی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے بھی انتہائی سرعت کے ساتھ انضمام کے ان معاہدوں کی توثیق کر دی جب کہ ایوانِ بالا کی جانب سے منظوری ملنے کا امکان ہے۔
یوکرین کیخلاف روسی جنگ، پوتین کے اتحادی روسی افواج کو تنقید کا نشانہ بنانے لگے
لندن، 4اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی افواج کی تذویراتی اہمیت کے حامل یوکرینی مشرقی قصبے سے پسپائی کے بعد پوتین کے اہم اتحادیوں کی طرف سے روسی فوجی ذمہ داروں کو تضحیک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ روسی افواج کے اعلیٰ حکام کو عوامی سطح پر ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔مگر لیمان کا مرکزی اہمیت کا حامل علاقہ ہاتھ سے جانے کے بعد ایک طرف لہانسک کے مغربی حصے خطرے کی زد میں آ گئے ہیں تو دوسری جانب اس نقصان کا اعصابی اثر پوٹن کے قریبی اتحادی اور چیچنیا کے رہنما رمضان قادروف پر بھی ہو گیا ہے۔رمضان قادروف اہنے والد اور چیچنیا کے سابق صدر احمد کے 2004 میں گروزنی بم دھماکے میں مارے جانے کے بعد سے روسی صدر پوتین کے قریب ہیں۔
اس قدر دل برداشتہ ہوئے ہیں کہ روس کو یوکرین کے خلاف چھوٹے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے مشورے دینے لگے ہیں۔ان کے جوہری ہتھیاروں کے مشورے کو انتباہ کے طور پر شہ سرخیوں میں جگہ مل رہی ہے۔ لیکن روس میں اعلی فوجی حکام کے لیے لیمان سے دستبرداری کی طعن اتنی عام ہونے لگی ہے کہ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ اعلیٰ فوجی حکام کو اس طرح عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔اس کی بڑی وجہ کی طرف سے شروع ہونے والی کھلے عام کی جانے والی تنقید ہے۔
جس میں انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اقربا پروری کسی اچھے نتیجے کی طرف نہیں لے کر جاتی ہے۔ رمضان قادروف نے اس سے بھی زیادہ سخت بات یہ کی ہے کہ روسی فوجی کمانڈروں سے ان کے تمغے چھین کر انہیں بندوق پکڑائی جائے اور لڑنے کے لیے محاذ پر بھیج دیا جائے۔ تاکہ یہ اپنی شرمندگی کو اپنے خون سے دھو سکیں۔ عوامی سطح پر روسی فوج کوجس تنقید کا سامنا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مایوسی کی سطح کیا ہے۔
یہ روسی جرنیلوں کی تضحیک کا بھی باعث ہے اور پوٹن کے اس بیانیے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو کریملن نے بڑی احتیاط کے ساتھ سنبھالنے کی کوشش کر رکھی ہے۔اہم بات یہ بھی ہے کہ رمضان نہ صرف یوکرین کے خلاف جنگ کے حامی ہین بلکہ انہوں نے چیچنیا سے فوجی دستے بھی جنگ کے لیے روانہ کیے ہیں۔ لیکن قادروف کی تنقید روس کی جنگ لڑنے والی افواج کے لیے ایک تلخ سچ ہے۔
روس یوکرین سے چرایا ہوا اناج بیچ رہا ہے, رپورٹ
لندن، 4اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گزشتہ موسم گرما میں ایک دیو ہیکل کارگو جہاز لاؤڈیسیا جب لبنان میں لنگر انداز ہوا تو یوکرین کے سفارت کاروں نے کہا کہ یہ جہاز روس کی طرف سے چوری شدہ اناج لے جا رہا تھا اور لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ جہاز کو ضبط کر لیں۔ماسکو نے اس الزام کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا اور لبنان کے پراسیکیوٹر جنرل نے کریملن کا ساتھ دیا اور اعلان کیا کہ 10,000 ٹن جو اور گندم کا آٹا چوری کا نہیں ہے اور جہاز کو اناج اتارنے کی اجازت دے دی۔بعد میں دی ایسوسی ایٹڈ پریس اور پی بی ایس سیریز فرنٹ لائن کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ لاؤڈیسیا، شام کی ملکیت ہے، جس میں کم از کم 530 ملین ڈالر مالیت کا یوکرینی اناج چوری کرکے لے جایا گیا اور اس کام کے لیے بحری جہاز کے جعلی سفری کاغذات بنائے گئے۔
پانچ سو تیس ملین ڈالر کی خطیر رقم صدر ولادیمیر پوٹن کی جنگی مشینوں کو چلانے کے لیے درکار تھی۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے سیٹلائٹ امیج اور میرین ریڈیو ٹرانسپونڈر ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے تین درجن بحری جہازوں کا سراغ لگایا جنہوں نے 50 سے زیادہ سفر کیے، جو روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں سے ترکی، شام، لبنان اور دیگر ممالک کی بندرگاہوں تک اناج لے جاتے رہے۔ رپورٹرز نے اسمگلنگ کے بڑے پیمانے پر آپریشن کی تفصیلات سے پردہ اٹھانے کے لیے شپنگ مینی فیسٹ کا جائزہ لیا، سوشل میڈیا پوسٹس کو تلاش کیا، اور کسانوں، شپرز اور کارپوریٹ حکام کے انٹرویوز لیے۔اناج کی یہ مسلسل چوری، جسے قانونی ماہرین ایک ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہیں، روس اور شام میں دولت مند تاجروں اور سرکاری کمپنیوں کے ذریعے کی جارہی ہے، جن میں سے کچھ کو پہلے ہی امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے مالی پابندیوں کا سامنا ہے۔
اناج اور آٹا لے جانے والے ایک سو اڑتیس میٹر لمبے (453 فٹ) لاؤڈیسیا کارگو جہاز نے ممکنہ طور پر جنوبی یوکرین کے شہر میلیٹوپول میں اپنا سفر شروع کیا تھا، جسے روس نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔9 جولائی کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ٹرین میلیٹوپول لفٹ تک جاتی ہے، جو اناج ذخیرہ کرنیکا ایک بہت بڑا گودام ہے، جس میں سبز رنگ کی ہوپر کاریں بھی دکھائی دے رہی ہیں جن پر بڑے پیلے حروف میں روسی کمپنی ایگرو فریگیٹ ایل ایل سی کا نام لکھا ہوا ہے، اس کے ساتھ گندم کی بالی کی شکل کا ایک لوگو بھی ہے۔
ایک قابض روسی اہلکار آندرے سگوٹا نے اس سے اگلے ہفتے ڈپو میں ایک نیوز کانفرنس کی جہاں اس نے کہا کہ یہ اناج یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول علاقوں کے لیے ،خوراک کی ضروریات کو پورا کرے گا، اور یہ کہ ان کی انتظامیہ فصل کا جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ اس کی فروخت کی کتنی قیمت ہوگی۔ان کی پریس کانفرنس کے دوران مزدور بڑے سفید تھیلوں میں آٹا بھررہے تھے۔اور پھر ایسے ہی تھیلے لاؤڈیسیا جہاز میں بھر کر تین ہفتے بعد لبنان پہنچائے گئے۔کریملن کسی اناج کی چوری کی تردید کرتا ہے، لیکن روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے 16 جون کو اطلاع دی تھی کہ یوکرائنی اناج کو ٹرکوں پر لاد کر کرائمیا لے جایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سرحدی چوکیوں پر ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
یورپی یونین 15000 یوکرینی فوجیوں کو تربیت دے گی
برسلز، 4اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یورپی یونین یوکرین کے 15000 فوجیوں کو تربیت دے گی۔ اس امر پر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اتفاق ہو گیا ہے۔ یوکرینی فوجیوں کی تربیت کاسلسلہ جلد شروع ہوجائے گا۔ یورپین یونین کے رکن ممالک کے درمیان طے پانے والے منصوبے کے مطابق تربیتی امور کی تفصیلات کو اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں حتمی شکل دی جاسکے گی۔ابتدائی فیصلے کے مطابق پولینڈ یورپین یونین سے وسائل کے حصول کے ساتھ تربیتی مقاصد کے لیے ایک ہیڈ کوارٹر قائم کرے گا۔ جبکہ بعض دیگر امور کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری دوسرے رکن ممالک پر ہوگی۔جرمنی کا اس تربیتی کے سلسلے میں کردار بھی اہم ہو گا۔
جیسا کہ جرمن چانسلر نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ جرمنی یوکرینی فوجیوں کو تربیت فراہم کرے گا۔ اسی طرح ڈنمارک کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کے زیر قیادت تربیتی پروگرام 130 فوجیوں کی تربیت کا حصہ بنے گا۔جرمنی کی وزارت دفاع کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ اس تربیتی منصوبے کے بارے میں کہنا ہے کہ جرمنی کا یورپی ممالک کے ساتھ قریبی کا رابطہ ہے اور نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔



