بین الاقوامی خبریں

حرمین شریفین کی سائبر سکیورٹی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جاسکتا: السدیس

ریاض ، 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے جنرل صدر الشیخ عبدالرحمن السدیس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حرمین شریفین کی سائبر سکیورٹی ایک سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا حرمین شریفین کے انتظامی امور کا ذمہ دار ادارہ کسی بھی قسم کی سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی اور خطرے سے پوری قوت سے نمٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین میں اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق سائبر سکیورٹی کے انتظامات موجود ہیں۔سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی کے حوالے سے السدیس نے ایک تقریر میں حرمین شریفین سائبر آکٹوپس کے حملوں کے لیے کسی بھی کمرے کو کھولنے سے لے کر ایک محفوظ اور قابل اعتماد سائبر اسپیس بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر جنرل نے حرمین شریفین میں سائبر سکیورٹی کے بہترین پراجیکٹ کے لیے ایک عظیم الشان انعام پیش کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی اتھارٹی اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کرمسجد حرام اور مسجد نبوی میں سائبر سکیورٹی کانفرنس کے انعقاد کی سفارش کی۔السدیس نے نیشنل سائبرسکیوریٹی اتھارٹی کے تعاون سے اپنے ملازمین کے لیے’’ اسپیس نہ کھولیں‘‘ کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام کرنے کے علاوہ سائبر سکیورٹی کے کلچر کو پھیلانے کے لیے ایک خصوصی شعبہ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

ریاض ، 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک سعودی نژد امریکی شہری کے اہل خاندان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں اسے ایسی ٹوئیٹس کے لیے گرفتار کرکے اذیتیں دی گئیں اور16 سال قید کی سزا دی گئی جو اس نے اس وقت کی تھیں جب وہ امریکہ میں تھا۔دبئی سے اے پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلوریڈا میں رہائش پذیر 72 سالہ سعد ابراہیم المادی کو جو ایک ریٹائرڈ پراجیکٹ منیجر ہیں، گزشتہ نومبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سعودی عرب میں مقیم اپنے خاندان سے ملنے گئے تھے۔

ان کے بیٹے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں المادی کو 16 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ انہوں نے اس سلسلے میں واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات کی تصدیق بھی کی۔ المادی امریکہ اور سعودی عرب دونوں ملکوں کے شہری ہیں۔جدہ کے ایک مال کے باہر لوگ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی تصویروں کے بینر کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ سعودی عہدیداروں نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں المادی کی گرفتاری کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معاملے کو چینلز کے ذریع اعلیٰ سعودی حکام کیساتھ ریاض اور واشنگٹن ڈی سی دونوں جگہ بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے۔ہم اس معاملے پر مسلسل کام کرتے رہیں گے۔ ہم نے کل بھی یہ معاملہ سعودی حکومت کے ارکان کے ساتھ اٹھایا تھا۔المادی کی سزا ان حالیہ مقدمات کے اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے جن میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر سعودی حکومت پر تنقید کرنے والے سعودی شہریوں کو طویل مدت کی قید کی سزائیں دی گئیں۔

سعد ابراہیم کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد کو ان 14 ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا جن میں زیادہ تر حکومتی پالیسیوں اور مبینہ کرپشن پر نکتہ چینی کی گئی تھی۔ یہ پوسٹس سات سال کے دوران کی گئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد شہری حقوق وغیرہ کے سرگرم کارکن نہیں ہیں بلکہ ایک عام شہری ہیں جنہوں نے امریکہ میں اپنی رہائش کے دوران اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کیونکہ امریکہ میں آزادی اظہار کو آئین کا تحفظ حاصل ہے۔ان کے بیٹے ابراہیم نے مزید بتایا کہ سعودی حکام نے ان کے خاندان کو خاموش رہنے اور امریکی حکومت کو اس معاملے میں ملوث نہ کرنے کے لیے تنبیہ کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button