بین الاقوامی خبریں

ایرانی سپریم لیڈر کا پوسٹر پھاڑنے پر 21 سالہ نوجوان کو گولی مار دی گئی

سلح افراد نے اہل تشیع کے ایک مقدس مقام پر فائرنگ کر کے کم از کم 15 افراد کو ہلاک کر دیا۔

تہران؍دبئی ، 27اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایرانی سکیورٹی اداروں نے مہسا امیینی کی پولیس حراست میں ہلاکت پر احتجاج کرنے والے ایک شخص کو محض اس لیے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا کہ وہ سپریم لیڈر کے پوسٹر کو پھاڑ رہا تھا۔بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بہیمانہ واقعہ 21 ستمبر کو پیش آیا تھا۔ جب 21 سالہ عرفان رضائی مظاہرین کا حصہ ہوتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کی تصویر پر مبنی پوسٹر کو پھاڑ رہا تھا۔ اسے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مگر اہل خانہ کو مرنے کے دودن بعد مشروط طور پر نعش دی گئی۔ نیز یہ کہا گیا کہ اسے گولی مظاہرین میں سے ہی اس کے کسی ساتھی  نے ماری ہے۔ تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بارے میں اب تک کسی سرکاری ذمہ دار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق رضائی کو موت اس کے گردوں اور تلی کو گولی لگنے سے پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے ہوئی تھی۔معلوم ہوا ہے کہ رضائی کی والدہ اپنے بیٹے کو گولی لگنے کی اطلاع ملنے پر مختلف ہسپتالوں اور جگہوں پر ماری ماری پھرتی رہی لیکن اس ے کسی سرکاری ذمہ دار نے اس بارے میں کچھ نہ بتایا۔ حتیٰ کہ جس ہسپتال میں رضائی کو زخمی حالت میں لے جایا گیا تھا اس کے عملے میں نے بھی نہیں بتایا۔

رضائی کی ماہ کو اس کے خون آلود کپڑے ایک آپریشن تھیٹر کے سامنے نظر آئے تو اسے علم ہوا ہے کہ اس کا بیٹا کس حال میں ہے۔ تاہم ماں کو بیٹے کی نعش دو دن بعد اس شرط پر دی گئی کہ وہ اور اس کا خاندان یہ مان لے کہ گولی مظاہرین میں سے کسی نے ماری تھی۔عرفان رضائی کی ماں انسٹا گرام پر لکھا ہے ’ میرے بیٹے میں تمہاری تصویر لے کر گھنٹوں بیٹھی رہتی ہے اور روتی رہتی ہوں‘۔واضح رہے 16 ستمبر کو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا احتجاج ابھی تک جاری ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اب تک کا ایک سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ہسپانوی شخص قطر ورلڈ کپ کیلئے جاتے ہوئے ایران میں گم ہوگیا

لندن، 27اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہسپانوی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک 41 سالہ ہسپانوی فٹ بال مداح نومبر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے قطر جاتے ہوئے ایران میں لاپتہ ہو گیا ہے۔ سینٹیاگو سانچیز کے دوستوں نے آخری مرتبہ ان کے بارے میں یکم اکتوبر کو سنا تھا جب سانچیز نے عراق ایران سرحد پر اپنی تصاویر بھیجی تھی۔ ان تصاویر میں سے ایک ’’ایران میں داخل ہوں‘‘ کے نشان کے ساتھ بھی تھی۔بعض ہسپانوی میڈیا ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے سانچیز کو گرفتار کر لیا ہے۔ میڈرڈ میں اس کے والدین نے بھی ٹیلی سنکو ٹی وی چینل کو بتایا کہ زیادہ امکان اس کی ایران میں گرفتاری کا ہی ہے۔

والدہ سیلیا نے کہا کہ اس بات کا 99 فیصد امکان ہے کہ وہ ایران کی کسی جیل میں ہے، تاہم ہسپانوی سفارت خانے نے میری بیٹی کو بتایا کہ وہ جیل جانے سے پہلے اس کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں۔ سفارتخانے نے کہا کہ سانچیز کی کسی جیل میں متوقع موجودگی دیکھنے کیلئے ایرانی حکومت سیاجازت لیں گے۔ہسپانوی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ سانچیز ایران میں ہے اور تہران میں اس کا سفارت خانہ اسے قونصلر مدد فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر اس کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات حاصل کر رہا ہے۔سانچیز نے گزشتہ جنوری کو میڈرڈ سے روانہ ہوا تھا، اس نے یورپ اور ترکی کا سفر کیا اور عراق میں داخل ہونے سے پہلے خیموں، ہوٹلوں اور گھروں میں سوتا رہا۔گزشتہ ماہ، سانچیز نے عراقی کردستان کے شہر زخو میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ وہ ہسپانوی قومی ٹیم سے ملنے کا خواہاں ہے۔

ایران کے شہر شیراز میں مزار پر فائرنگ، 15 افراد ہلاک

تہران، 27اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کے جنوب میں و اقع مشہور شہر شیراز، جہاں کے حافظ شیرازی اور شیخ سعدی مشہور فارسی شاعر گزرے ہیں، میں مسلح افراد نے اہل تشیع کے ایک مقدس مقام پر فائرنگ کر کے کم از کم 15 افراد کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق اس واقعے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہو گئے۔جیوڈشری کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق شاہ چراغ مسجد و مزار پر فائرنگ کے شبہے میں دو مسلح افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تیسرا مسلح شخص فرار ہو گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارہ ’ ارنا‘ نے اس حملے میں پندرہ ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ سرکاری ٹی وی کے مطابق 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اس حملے کے آثار ان حملوں سے مماثلت رکھتے ہیں جو ماضی میں سنی انتہاپسند شیعہ اکثریت کے خلاف کرتے آئے ہیں۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک پچھلے چالیس دنوں سے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ایک عشرے کے عرصے میں ایران میں ہونے والے یہ سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

ایران میں بائیس سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی تحویل کے دوران ہلاکت پر ہزاروں لوگ ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں۔ اور یہ احتجاج بدھ کو بھی جاری رہا جب ان کا چالیسواں منایا جا رہا تھا۔چالیسویں کا سوگ ایران کی روایات کا حصہ ہے اور بدھ کے روز بھی مہسا امینی کے کرد آبائی شہر ساقیز میں ہزاروں افراد ایک طویل قطار میں ان کی قبر پر پہنچے۔اس موقع پر مظاہرین نے ’آمر کو پھانسی دو‘ کے نعرے بھی لگائے۔

ویڈیو فوٹیجز کے مطابق ایچی کے قبرستان میں خواتین نے اپنے سروں سے حجاب بھی اتار پھینکا۔ اس موقع پر بڑی شاہراہوں اور مٹی سے اٹے راستوں تک، ہر جگہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نظر ا?ئی۔حکومت سے وابستہ میڈیا نے بتایا ہے کہ دس ہزار افراد مہسا امینی کی قبر پر آئے۔ انسانی حقوق کے ایک کردش گروپ ’ ہینجا‘ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اس موقع پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button